Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
316 - 831
یہ شاعر ہیں   اُدھر اُنہوں   نے اس کی نفی کردی، اور تعجب کی بات یہ کہ میرے دل کی بات جان لی ۔)ابھی میں   یہ سوچ ہی رہا تھا کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ’’سُوْرَۃُ الْحَاقَّہ‘‘ کی یہ دو آیتیں   پڑھیں  : (وَ لَا بِقَوْلِ كَاهِنٍؕ-قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَؕ(۴۲) تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ(۴۳)) (پ۲۹، الحاقۃ:۴۲، ۴۳) (ترجمۂ کنز الایمان: ’’اور نہ کسی کاہن کی بات کتنا کم دھیان کرتے ہو، اس نے اتارا ہے جو سارے جہان کا رب ہے۔‘‘بس یہ سننا تھا کہ میرے دل میں   اسلام کی محبت بیٹھ گئی ۔(1)
(2)......بچھڑے کا نبی کریم کی رسالت کی شہادت دینا:
ابوجہل لعین نے اعلان کیا کہ اے قبیلہ قریش! محمد بن عبد اللہ ہمارے دین کو باطل اور ہمارے معبودوں   کو مردود ٹھہراتا ہے جو آدمی اسے (مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ)قتل کردے میں   اسے ایک سو سرخ یا سیاہ اونٹنیاں   اور ایک ہزار اوقیہ چاندی جس کا ہر اوقیہ چالیس درہم کا ہوگا بطور انعام دوں   گا۔ یہ سن کر حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہننگی تلوار لیے سُلْطَانُ الْمُتَوَکِّلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ شہید کرنے کے ارادے سے نکلے ، راستے میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے دیکھا کہ کچھ لوگ ایک بچھڑے کو ذبح کرنے کا ارادہ کیے ہوئے ہیں  ،  بچھڑے کے منہ سے یہ صدا بلند ہوئی: ’’اے آل ذریح! ایک آدمی پکار پکار کر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدُ رَّسُوْلُ اللہِ کی شہادت کی دعوت دے رہا ہے۔‘‘ حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہیہ سن کر گہری سوچ میں   پڑ گئے اور اسلام آپ کے دل میں   داخل ہوگیا۔(2)
(3)......بکری کا نبی کریم کی رسالت کی گواہی دینا:
اس بچھڑے کا کلام سن کر جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہآگے بڑھے تو ایک بکری کو چرتے ہوئے دیکھا اس کے پاس ہاتفِ غیبی کی آواز سنی جو ایسے اشعار پڑھ رہا تھا جن میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی نبوت کی بحث تھی۔ چند اشعاراور اُن کا ترجمہ پیش خدمت ہے:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…مسند امام احمد ،مسند عمر بن الخطاب، ج۱، ص۴۸، حدیث:۱۰۷۔
2…شرح زرقانی علی المواھب ، اسلام الفاروق، ج۲، ص۱۰ ملتقطا۔