فاروقِ اعظم کا قبولِ اسلام
ایک اہم وضاحت:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے قبولِ اسلام کے مختلف واقعات کتب میں ملتے ہیں ،ان تمام واقعات میں کوئی تضاد نہیں ۔مشہور واقعہ وہی ہے جس میں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ شہید کرنے کے ارادے سے نکلے اور اپنی بہن وبہنوئی کے گھر چلے گئے اور بالآخر دارِاَرقم میں جاکر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی موجودگی میں قبول اسلام کرلیا۔ البتہ قبول اسلام سے قبل آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے ساتھ دیگر کئی ایسے واقعات پیش آئے جو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے قبول اسلام میں معاون ثابت ہوئے اور اسلام کی محبت آپ کے دل میں گھر کرگئی نیز وہی واقعات آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے قبول اسلام کا محرک بھی بنے۔ ایسے ہی چند واقعات پیش خدمت ہیں ۔
قبول اسلام میں معاون چند واقعات
(1)......اسلام کی محبت دل میں بیٹھ گئی :
حضرت سیِّدُنا شریح بن عبید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہروایت کرتے ہیں سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاپنے اسلام لانے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے خود ارشاد فرماتے ہیں کہ: میں اسلام لانے سے قبل ایک بار تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ایذا ءپہنچانے کے ارادے سے باہر نکلا تو میں نے دیکھا کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مجھ سے پہلے ہی مسجد حرام میں پہنچ کر نماز میں مصروف ہوچکے ہیں ۔ میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پیچھے کھڑا ہوگیا۔ آپ نے ’’سُوْرَۃُ الْحَاقَّہ‘‘ کی تلاوت شروع کی تو میں قرآن کریم سن کر دنگ رہ گیا اور سوچنے لگا کہ قریش سچ کہتے ہیں یہ واقعی شاعر ہیں ۔ ابھی میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ’’سُوْرَۃُ الْحَاقَّہ‘‘کی یہ دو آیتیں پڑھیں : (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍۚۙ(۴۰) وَّ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍؕ-قَلِیْلًا مَّا تُؤْمِنُوْنَۙ(۴۱)) (پ۲۹، الحاقۃ:۴۰، ۴۱) (ترجمۂ کنزالایمان:’’ بے شک یہ قرآن ایک کرم والے رسول سے باتیں ہیں ، اور وہ کسی شاعر کی بات نہیں کتنا کم یقین رکھتے ہو۔)میں نے سوچا یہ شاعر نہیں بلکہ کاہن لگتے ہیں ۔(کیونکہ اِدھر میرے دل میں خیال آیا کہ