Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
313 - 831
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدرِ دولت پر موجود نہ ہوں   تو واپس آجانا۔‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   یمن سے سفر کرکے جب مدینہ منورہ پہنچے تو معلوم ہوا کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  تو اپنے کاشانۂ اقدس پر تشریف فرما نہیں   ہیں  ۔فوراً والدہ کی بات یاد آئی اور واپسی کا سفر شروع کردیا۔ یوں   والدہ ماجدہ کی اطاعت میں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زیارت نہ ہوسکی۔جب رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدرِ دولت پر تشریف لائے تو سیدنا اُویس قرنی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے نور کو ملاحظہ فرمالیا اور استفسار فرمایا کہ ’’یہاں   کوئی آیا تھا؟‘‘ عرض کی گئی: ’’جی! یمن سے اُویس نامی شخص آئے تھے اور آپ کو سلام عرض کرگئے ہیں  ۔‘‘ فرمایا: ’’یہ نور اُویس ہی کا ہے جسے وہ بطور ہدیہ چھوڑ گئے ہیں  ۔‘‘
یہ بھی منقول ہے کہ جب سیدنا اُویس قرنی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے پیارے آقا، مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی کاشانۂ نبوت پر زیارت نہ کی تو اُمّ المؤمنین سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے استفسار کیا کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کب تشریف لائیں   گے؟‘‘ فرمایا: ’’شاید ظہر تک تشریف لے آئیں  ۔‘‘ عرض کیا: ’’آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے میرا سلام عرض کردیجئے گا۔‘‘جب خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدرِ دولت پر تشریف لائے تو سیدنا اُویس قرنی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے نور کو ملاحظہ فرمالیا اور اُمّ المؤمنین سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے استفسار فرمایا۔عرض کیا: ’’جی! یمن سے اُویس نامی شخص آئے تھے اور آپ کو سلام عرض کرگئے ہیں  ۔‘‘ فرمایا: ’’یہ نور اُویس ہی کا ہے جسے وہ بطور ہدیہ چھوڑ گئے ہیں  ۔‘‘(1)
٭…حضرت سیِّدُنا اُوَیس قرنی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   کی یہ شان بھی ظاہر ہوئی کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   مستجاب الدعوات تھے، نیز آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   کی یہ شان تھی کہ اگر کسی بات پر قسم اٹھالیتے تو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ  اسے ضرور پورا فرماتا تھا۔معلوم ہوا کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ولیوں   کو بلند درجات رب عَزَّ وَجَلَّ ہی کی بارگاہ سے ملتے ہیں  ، ربّ عَزَّ وَجَلَّ ہی کی عطا ہوتے ہیں  ، انہیں   بیان کرنا شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن، اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے ثابت اور ان کو تسلیم کرنا صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی سنت مبارکہ ہے۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…خواجہ اویس قرنی صحابی یا تابعی؟،  ص ۲۳، ذکر اویس، ص۶۸۔