Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
312 - 831
کے متعلق غیب کی خبر دی، نیز یہ بھی ارشاد فرمایا کہ وہ یمن کی امداد کے ساتھ آئیں   گے۔
٭…اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے جو غیبی خبر دی تھی وہ بحمد اللہ تعالی پوری ہوئی اور سیِّدُنا اُویس قرنی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   واقعی یمنی مددگارفوج کے ساتھ تشریف لائےاور فاروقِ اعظم سے ملاقات کی۔
٭… یہ بھی معلوم ہوا کہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کا بھی یہ پختہ عقیدہ تھا کہحضور نبی ٔپاک، صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےجو غیبی خبر دی ہے وہ پوری ہوکر ہی رہے گی، جبھی تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ عہدِ رسالت وعہدِ صدیقی دونوں   میں   سیِّدُنا اُویس قرنی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   کو تلاش کرتے رہے اور بالآخر اپنے ہی عہدِ خلافت میں   اُن سے ملاقات کی ترکیب بن گئی۔
٭…امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ عہدِ رسالت میں   بھی سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی اتباع میں   اپنی زندگی گزارتے تھے اور بعد میں   بھی آپ کی یہی عادت مبارکہ رہی، یہی وجہ ہے کہ جب حضرت سیِّدُنا اویس قرنی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   سے ملاقات ہوئی تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے حکم کی اتباع کرتے ہوئے اُن سے دعائے مغفرت کی درخواست کی۔
٭…یہ بھی معلوم ہوا کہ بزرگوں   سے دعائے مغفرت کروانے کا حکم خود نورکے پیکر، تمام نبیوں   کے سَروَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   نے دیا۔نیز بزرگوں   سے دعا کروانا صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  سے ثابت ہے۔
٭…علمائے کرام نے اِس بات کی تصریح فرمائی ہے ، نیز اَحادیث مبارکہ سے بھی یہ واضح ہوتاہے کہ سیِّدُنا اُوَیس قرنی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   اَپنی والدۂ ماجدہ کی بہت خدمت کیا کرتے تھے، اِسی وجہ سے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   کو بارگاہِ خداوندی عَزَّ وَجَلَّ اور بارگاہِ رسالت سے یہ مقام ومرتبہ ملا کہ اگرچہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   صحابی نہیں   لیکن بارگاہِ رسالت میں   آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   کا ذکر خیر ہوتا تھا۔
٭…اپنی والدہ کی خدمت کی وجہ سے سیِّدُنا اُویس قرنی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زیارت نہ کرسکے۔ چنانچہ منقول ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ایک بار اپنی والدہ سے بارگاہِ رسالت میں   حاضری کی اِجازت طلب کی ، والدہ نے اجازت تو دے دی لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ:’’ بیٹا رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ