Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
310 - 831
 کا ایک شخص آئے گا جس کا نام اُویس بن عامر ہوگا، اُس کو برص کی بیماری ہوگی اور پھر ایک درہم کی مقدار کے علاوہ باقی سب ٹھیک ہوجائے گی، قرن میں   اُس کی والدہ ہے جس کے ساتھ وہ بہت نیکی والا سلوک کرتا ہو گا، اگر وہ کسی چیز پر   اللہ1 کی قسم اٹھالے تو اللہ تَعَالٰی بھی اُس کو ضرور پورا فرمائے گا، اگر تم سے ہو سکے تو اُس سے مغفرت کی دعا کروانا۔‘‘ لہٰذا اب آپ میرے لیے مغفرت کی دعا فرمائیے۔ یہ سن کر سیِّدُنا اُویس قرنی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے لیے دعائے مغفرت کی۔ 
٭…سیِّدُنا فاروقِ اعظم:	’’اَيْنَ تُرِيدُ یعنی اب آپ کا کہاں   کا ارادہ ہے؟‘‘
٭…سیِّدُنا اویس قرنی:	’’الْكُوفَةَ یعنی میں   کوفہ جاؤں   گا۔‘‘
٭…سیِّدُنا فاروقِ اعظم:	’’اَلَا اَكْتُبُ لَكَ اِلَى عَامِلِهَا میں   کوفہ کے گورنرکو آپ کے بارے میں   ایک مکتوب نہ لکھ دوں   تاکہ آپ کو وہاں   کوئی تکلیف نہ ہو۔‘‘
٭…سیِّدُنا اویس قرنی:	’’اَكُونُ فِي غَبْرَاءِ النَّاسِ اَحَبُّ اِلَيَّ یعنی خاک نشیں   لوگوں   میں   رہنا مجھے پسند ہے۔‘‘
جب دوسرا سال آیا تو کوفہ کے اَشراف میں   سے ایک شخص آیا اور اُس نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ملاقات کی، تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اُس سے سیِّدُنا اُویس قرنی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے متعلق پوچھا، اس نے کہا: ’’تَرَكْتُهُ رَثَّ الْبَيْتِ قَلِيلَ الْمَتَاعِ میں   جب اُن کے پاس سے آیا تو اُس وقت وہ ایک خستہ حالت والے گھر میں   تھوڑے سے ضروری سامان کے ساتھ رہ رہے تھے۔‘‘ پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اُسے بھی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سیِّدُنا اُویس قرنی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   کے متعلق تفصیلی حدیث سنائی۔ پھر وہ شخص جب سیِّدُنا اُویس قرنی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس دوبارہ گیا تو اُن سے عرض کیا کہ میرے لیے دعائے استغفار کر دیجئے۔اُنہوں   نے جواباً اِرشاد فرمایا کہ تم ایک اچھے سفر سے آرہے ہو تم میرے لیے دعا کرو لیکن اُس شخص نے دوبارہ آپ ہی کو دعا کے لیے کہا تو اُنہوں   نے فورا ًامیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’لَقِيتَ عُمَرَ کیا تم امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ملاقات کرکے آئے ہو؟‘‘اُس نے عرض کیا: ’’جی ہاں  ۔‘‘ پھر سیِّدُنا اُویس قرنی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اُن کے لیے دعائے مغفرت