فاروقِ اعظم کی سیِّدُنا اُویس قرنی سے ملاقات:
چونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو حضرت سیِّدُنا اُوَیس قرنی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے بارے میں غیبی خبر دے دی تھی ، اِس لیے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اُن کی تلاش میں رہتے اور جب بھی قافلے آتے خصوصاً یمن کے قافلے تو آپ اُن سے ضرور پوچھتے۔ چنانچہ،
حضرت سیِّدُنا اسیر بن جابر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس جب اہل یمن میں سے کوئی امداد لے کر آتا تو وہ اُن سے سوال کرتے کہ کیا تم میں اویس بن عامر ہے؟ یہاں تک کہ ایک دن سیِّدُنا اویس قرنی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اُن کے پاس پہنچ گئے۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور اُن کے درمیان یوں مکالمہ ہوا:
٭…سیِّدُنا فاروقِ اعظم: ’’اَنْتَ اُوَيْسُ بْنُ عَامِرٍ یعنی آپ ہی اُویس بن عامر ہیں ؟
٭…سیِّدُنا اویس قرنی: ’’نَعَمْ یعنی جی ہاں ! میں ہی اُویس بن عامر ہوں ۔‘‘
٭…سیِّدُنا فاروقِ اعظم: ’’مِنْ مُرَادٍ ثُمَّ مِنْ قَرَنٍکیا آپ قبیلہ مراد سے ہیں ، پھر قرن سے؟‘‘
٭…سیِّدُنا اویس قرنی: ’’نَعَم جی ہاں ! ایسا ہی ہے۔‘‘
٭…سیِّدُنا فاروقِ اعظم: ’’فَكَانَ بِكَ بَرَصٌ فَبَرَاْتَ مِنْهُ اِلَّا مَوْضِعَ دِرْهَمٍ یعنی آپ کے جسم پر برص کے نشان تھے پھر آپ کو اُن سے نجات مل گئی بس ایک درہم کے برابر نشان باقی ہے۔‘‘
٭…سیِّدُنا اویس قرنی: ’’نَعَم جی ہاں ! ایسا ہی ہے۔‘‘
٭…سیِّدُنا فاروقِ اعظم: ’’لَكَ وَالِدَةٌ یعنی آپ کی والدہ بھی ہیں ؟‘‘
٭…سیِّدُنا اویس قرنی: ’’نَعَم جی ہاں ! بالکل ہیں ۔‘‘
اِس کے بعد امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُن کے بارے میں جو غیبی خبر دی تھی وہ تفصیل سے سنائی کہ میں نے حسن اَخلاق کے پیکر، محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے یہ سنا ہے کہ ’’اہل یمن کی امداد کے ساتھ تمہارے پاس قبیلہ مراد سے قرن