اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں بہت عزت وعظمت والا ہے اور اپنی والدہ کے ساتھ بہت نیکی کرنے والا ہے۔‘‘
٭…’’لَوْ يُقْسِمُ عَلَى اللہِ لَاَبَرَّهُ يَشْفَعُ لِمِثْلِ رَبِيْعَةَ وَمُضَرَ یعنی اگر وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم اٹھالے تو ربّ عَزَّ وَجَلَّ اُسے ضرور پورا فرماتا ہے اور وہ میری امت کی قبیلہ ربیعہ اور مضر کے برابر شفاعت کرے گا۔‘‘(1)
(2)…ایک روایت میں ہے کہ حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ہی روایت ہے کہ نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَروَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:
’’سَيَقْدِمُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ اُوَيْسٌ كَانَ بِه بَيَاضٌ فَدَعَا اللہَ لَهُ فَاذْهَبَهُ اللہُ فَمَنْ لَقِيَهُ مِنْكُمْ فَمُرُوْهُ فَلْيَسْتَغْفِرْ لَهُ یعنی عنقرب تمہارے پاس ایک ایسا شخص آئے گا جسے لوگ اُوَیس کے نام سے یاد کریں گے، اُس کے جسم پر سفید داغ ہوں گے پھر وہ ربّ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں دعا کرے گا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُنہیں دور فرمادے گا ، پس تم میں سے جو کوئی اُس سے ملاقات کرے تو اُس سے اپنے لیے دعائے مغفرت ضرور کروائے۔‘‘(2)
(3)…ایک روایت میں یوں ہے کہ حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ہی روایت ہے کہ سرکارِ مکۂ مکرمہ، سردارِ مدینۂ منورہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’يَاْتِيْ عَلَيْكُمْ اُوَيْسٌ بْنُ عَامِرٍ مَعْ اَمْدَادِ اَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ مُرَادٍ ثُمَّ مِنْ قَرَنٍ كَانَ بِهٖ بَرَصٌ فَبَرِئٌ مِنْهُ اِلَّا مَوْضِعَ دِرْهَمٍ لَهُ وَالِدَةٌ هُوَ بِهَا بِرٌ لَوْ اَقْسَمَ عَلَى اللہِ لَاَبَرَّهُ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ يَسْتَغْفِرْ لَكَ فَافْعَلْ یعنی تمہارے پاس اُویس بن عامر یمنی مددگارفوج کے ساتھ آئیں گے اور وہ مراد قبیلہ سے ہیں اور قرن کے علاقے سے تعلق رکھتے ہیں ، اُن کے جسم پر برص یعنی سفید داغ ہیں پھر اُنہیں اُس سے نجات دے دی جائے گی سوائے ایک درہم کی جگہ کے برابر۔ اُن کی والدہ بھی ہیں جس کے ساتھ وہ بہت نیک سلوک کرنے والے ہیں ، اگر وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم اٹھالیں تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُسے ضرور پورا فرمائے گا، پس اے عمر! اگر تم ان سے دعائے مغفرت کرواسکو تو ضرور کروانا۔‘‘(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…جمع الجوامع،حرف الیاء، ج۹، ص۱۶۱، حدیث:۲۷۹۲۹۔
2…مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الفضائل، ما ذکر فی اویس القرنی، ج۷، ص۵۳۹، حدیث:۲۔
3…مسلم، کتاب الفضائل، باب من فضائل اویس القرنی، ص۱۳۷۶، حدیث:۲۲۵۔