Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
306 - 831
 میں   حاضر ہوئے تو سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان سے استفسار کیا کہ’’ اصحاب کہف سے ملاقات کیسی رہی اور انہوں   نے کیا کہا؟‘‘ عرض کیا: ’’یارسول اللہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ہم نے انہیں   سلام کیا، انہوں   نے جواب دیا، پھر ہم نے انہیں   دین اسلام کی دعوت دی تو انہوں   نے اسے قبول کیا اور دین اسلام میں   داخل ہوگئے اور   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حمد وثنا بیان کی۔یارسول اللہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! انہوں   نے آپ کو سلام بھی عرض کیا ہے۔‘‘یہ سن کر نورکے پیکر، تمام نبیوں   کے سَرْوَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبہت خوش ہوئے اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے اور بارگاہِ الٰہی میں   یوں   دعا فرمائی: ’’یَا اِلٰہَ الْعَالَمِیْن! میرے ، میرے رشتہ داروں  ، میرے دوستوں  ، میرے بھائیوں  ، میرے محبین کے مابین کبھی جدائی نہ ڈالنا اور جو مجھ سے محبت کرتاہے ، میرے اہل بیت سے محبت کرتاہے، ان کا حامی ہے، اور جو میرے اصحاب سے محبت کرتاہے ان سب کی مغفرت فرما۔‘‘(1)
سیِّدُنا فاروقِ اعظم اور سیِّدُنا اُوَیْسِ قَرَنِی
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرت سیِّدُنا اُوَیس قرنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مشہور تابعی بزرگ ہیں  ، آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہکوقُطب اور اَبدالوں   کے سرداروں   میں   شمار کیا جاتاہے۔اگرچہ آپ نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا زمانۂ مبارکہ پایا ہے لیکن چونکہ زیارت سے مشرف نہ ہوئے اِس لیے شرف صحابیت کو نہ پایا۔ البتہ اَکابر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  سے آپ کی ملاقات ثابت ہے، یہی وجہ ہے کہ آپ تابعی کے درجے پر فائز ہوئے۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   وہ تابعی بزرگ ہیں   جن کا تذکرہ بارگاہِ رسالت میں   ہوا کرتا تھا۔ چنانچہ حصولِ برکت کے لیے آپ کے فضائل پر تین اَحادیث پیش خدمت ہیں  :
(1) …حضرت سیِّدُنا عبد الرحمن بن ابی لیلی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ایک شامی بزرگ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت کرتے ہیں   کہ اُنہوں   نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا:’’اِنَّ خَيْرَ التَّابِعِينَ رَجُلٌ یُقَالُ لَہُ اُوَیْسٌ یعنی بے شک تابعین میں   سے سب سے افضل تابعی وہ ہے جسے اُوَیس کے نام سے یاد کیا جائے گا۔‘‘(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1… ر وح البیان، پ ۱۵،الکھف، تحت الآیۃ: ۲۱، ج۵، ص۲۳۱، انوارِ آفتاب صداقت، ج۲، ص۱۹۸، فیضانِ صدیق اکبر، ص۶۱۲۔
2…مسلم، کتاب الفضائل، با ب من فضائل اویس القرنی، ص۱۳۷۵،حدیث:۲۲۴ مختصرا۔