Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
305 - 831
چادر مبارک کو اٹھایا ،چاروں   صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  اس پر آرام وسکون سے بیٹھے رہے دیکھتے ہی دیکھتے وہ چادر آنکھوں   سے اوجھل ہوگئی یہاں   تک کہ اصحاب کہف کے غار کے پاس ہوا نے چادر کو زمین پررکھ دیا۔ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  نےغار کے قریب پہنچ کر منہ سے پتھر ہٹایا جیسے ہی روشنی اندر پہنچی تو اَصحاب کہف کے اُس عاشق کتے نے جو اُن کے ساتھ ہی آرام کررہاتھا ہلکی سی آوازنکالی، گویا اس نے غار میں   داخل ہونے والوں   کوبغیر اجازت داخلے سے خبردار کیا۔خطرے کی بو سونگ کر فوراً حملہ کرنے کے لیے باہر آیا لیکن جب اولیاء اللہ کے اس عاشق نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اِن پیارے عشاق کو دیکھا تو اِن کے قدموں   کے بوسے لینے لگا اور بڑے پیار سے اپنی دم ہلانے لگا اورپھر سرکے اشارے سے اندر آنے کو کہا۔ چاروں   صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم غار کے اندر گئے اورسوئے ہوئے اصحاب کہف کو یوں   سلام کیا: ’’ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُم وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہ۔‘‘ 
اللہ تعالٰی نے اپنے کرم سے اصحاب کہف کو بیدا ر فرمایااور انہوں   نے بھی جواباً سلام کیا۔ چاروں   صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  نے اپنا تعارف کروایا اورفرمایا:’’بے شک   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے نبی حضرت محمدبن عبد اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپ لوگوں   کو سلام ارشاد فرمایا ہے۔‘‘ انہوں   نےکہا:’’ہماری طرف سے بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول حضرت محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر جب تک زمین وآسمان ہیں   سلامتی نازل ہو اور آپ سب پر بھی ۔‘‘پھر سب لوگ بیٹھ کر باتیں   کرتے رہے۔ اصحاب کہف سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر ایمان لے آئے اور دین اسلام کو قبول کیا اور عرض کیا کہ :’’ہماری طرف سے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگا ہ میں   سلام پیش کیجئے گا۔‘‘ پھر وہ اپنی اپنی جگہوں   پر دوبارہ لیٹ گئے اور   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان پر حضرت امام مہدی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے ظاہر ہونے تک نیند طاری فرمادی۔ کہا جاتاہے کہ حضرت امام مہدی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہجب ظہور فرمائیں   گے تو انہیں   سلام کریں   گے اورایک بار پھر   اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان کو بیدار فرمائے گا اوراس کے بعد قیامت تک کے لیے سوجائیں   گے ۔بہرحال چاروں   صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان چادر پر اپنی اپنی جگہ دوبارہ بیٹھ گئے اور ہوا انہیں   بارگاہِ رسالت میں   پہنچانے کے لیے چادر کو لے کر چل پڑی۔  
اُدھر حضرت سیِّدُناجبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس حاضر ہوگئے اور ان چاروں   صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے ساتھ جو ہوا سب کچھ بیان کردیا۔اور جب چاروں   صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  بارگاہِ رسالت