٭…امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خداکَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے ارشاد فرمایا:
٭…’’مَنِ اشْتَاقَ اِلَی الْجَنَّۃِ سَارِعْ اِلَی الْخَیْرَاتِ یعنی جس نے جنت کی خواہش کی، اس نے نیکیاں کرنے میں جلدی کی۔‘‘٭…’’وَمَنِ اشْفَقَ مِنَ النَّارِ اِنْتَھٰی عَنِ الشَّھَوَاتِ اور جس نے جہنم سے نجات کی خواہش کی، وہ شہوات سے رک گیا ۔‘‘٭…’’وَمَنْ تَیَقَّنَ بِالْمَوْتِ اِنْھَدَمَتْ عَلَیْہِ الَّلذَّاتُ اور جسے موت کا یقین ہو گیا، اُس کی لذتیں ختم ہو گئیں ۔‘‘٭…’’وَمَنْ عَرَفَ الدُّنْیَا ھَانَتْ عَلَیْہِ الْمُصِیْبَاتُ اور جس نے دنیا کی حقیقت کو پہچان لیا ، اس پر مصیبتیں آسان ہوگئیں ۔‘‘ (1)
فاروقِ اعظم کی اَصحاب کہف سے ملاقات
ایک دن اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے رب عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں اَصحاب کہف سے ملاقات کی آرزو کی تواسی وقت حضرت سیِّدُنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام نازل ہوئے اوربارگاہِ رسالت میں عرض کی کہ ’’یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ انہیں دنیا میں ظاہراً نہیں دیکھ پائیں گے، البتہ اپنے اکابر صحابہ میں چار صحابیوں کو ان کے پاس بھیج دیں تاکہ وہ آپ کا پیغام اُن تک پہنچائیں اور انہیں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر ایمان لانے کی دعوت دیں ۔‘‘ نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’اے جبریل! اس کی کیا صورت ہوگی، میں اپنے صحابہ کوان کے پاس کیسے بھیجوں اور ان کے پاس جانے کا حکم کس کو دوں ؟‘‘سیِّدُناجبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کیا: ’’یارسول اللہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ایسا کریں آپ اپنی چادر مبارک کو بچھائیں اورایک طرف حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ، دوسری طرف حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ، تیسری طرف حضرت علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْماور چوتھی طرف حضرت ابو ذر غفاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمکو بٹھا دیجئے۔پھر اس ہوا کو بلائیں جسے اللہ تعالینے حضرت سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام کے لیے مسخر فرمایا تھا، کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ آپ کی اطاعت کرے آپ اُس ہوا سے ارشاد فرمائیے کہ اِن چاروں صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمکو اٹھائے اور اس غار تک لے جائے جہاں اصحاب کہف آرام فرما ہیں ۔‘‘چنانچہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایسا ہی فرمایا۔توہوا نے آپ کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المنبھات ، ص۳۵، ماخوذا۔