روزہ صدقہ فطر کے ساتھ مکمل ہوتاہے۔‘‘٭…’’وَالْحَجُّ بِالْھَدْیَۃِ اور حج قربانی کے ساتھ مکمل ہوتاہے۔‘‘ ٭… ’’وَالْاِیْمَانُ بِالْجِھَادِ اور ایمان جہاد کے ساتھ مکمل ہوتاہے۔‘‘
٭…امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:
٭…’’اَلْبُحُوْرُ اَرْبَعَۃٌ یعنی سمندر چار ہیں ۔‘‘٭…’’اَلْھَوٰی بَحْرُ الذُّنُوْبِ خواہشات گناہوں کا سمندر ہیں ۔‘‘٭…’’وَالنَّفْسُ بَحْرُ الشَّھَوَاتِ اور نفس شہوتوں کا سمندرہے۔‘‘٭…’’ وَالْمَوْتُ بَحْرُ الْاَعْمَارِ اور موت عُمروں کا سمندر ہے۔‘‘٭…’’ وَالْقَبْرُ بَحْرُ النَّدَامَاتِ اور قبر ندامتوں کا سمند رہے۔‘‘
٭…امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اِرشاد فرمایا:
٭…’’وَجَدْتُّ حَلَاوَۃَ الْعِبَادَۃِ فِیْ اَرْبَعَۃِ اَشْیَاءٍ یعنی عبادت کی لذت کو میں نے چار چیزوں میں پایا۔‘‘ ٭…’’اَوَّلُھَا فِیْ اَدَاءِ فَرَائِضِ اللہِ تَعَالٰی پہلی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرائض کی ادائیگی میں ۔‘‘ ٭…’’وَالثَّانِیْ فِیْ اِجْتِنَابِ مَحَارِمِ اللہِ تَعَالٰی دوسری اللہ
عَزَّ وَجَلَّ کی حرام کردہ چیزوں سے بچنے میں ۔‘‘٭…’’وَالثَّالِثُ فِی الْاَمْرِ بِالْمَعْرُوْفِ ابْتِغَاءَ ثَوَابِ اللہِ تیسری حصول ثواب کی خاطر نیکی کا حکم کرنے میں ۔‘‘٭…’’وَالرَّابِعُ فِی النَّھْیِ عَنِ الْمُنْکَرِ اتِّقَاءَ غَضَبِ اللہِ چوتھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے غضب سے ڈرتے ہوئے برائی سے منع کرنے میں ۔‘‘
٭…نیز امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے یہ بھی ارشاد فرمایا:
٭…’’اَرْبَعَۃٌ ظَاھِرُھُنَّ فَضِیْلَۃٌ وَبَاطِنُھُنَّ فَرِیْضَۃٌ یعنی چار چیزیں ایسی ہیں جن کا ظاہر فضیلت والی بات ہے اور باطن فرض ہے۔‘‘٭…’’مُخَالَطَۃُ الصَّالِحِیْنَ فَضِیْلَۃٌ وَالْاِقْتِدَاءُ بِھِمْ فَرِیْضَۃٌ یعنی نیک لوگوں سے ملتے رہنا فضیلت والی بات ہے لیکن اُن کی اِقتداء کرنا فرض ہے۔‘‘٭…’’وَتِلَاوَۃُ الْقُرْآنِ فَضِیْلَۃٌ وَالْعَمَلُ بِہ فَرِیْضَۃٌ اور قرآنِ پاک کی تلاوت کرنا فضیلت کی بات ہے لیکن اِس پر عمل کرنا فرض ہے۔‘‘٭…’’وَزِیَارَۃُ الْقُبُوْرِ فَضِیْلَۃٌ وَالْاِسْتِعْدَادُ لَھَا فَرِیْضَۃٌ اور قبروں کی زیارت کرنا فضیلت والی بات ہے لیکن اِس کی تیاری کرنا فرض ہے۔‘‘٭…’’وَعَیَادَۃُ الْمَرِیْضِ فَضِیْلَۃٌ وَاتِّحَاذِ الْوَصِیَّۃِ مِنْہُ فَرِیْضَۃٌاور مریض کی عیادت کرنا فضیلت والی بات ہے لیکن اِس کی شرعی وصیت کو پورا کرنا فرض ہے۔‘‘