مدد کرنا۔‘‘
٭…سیِّدُنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام پھر عرض گزار ہوئے:’’ یُحِبُّ رَبُّ الْعِزَّۃِ جَلَّ جَلَالَہُ مِنْ عِبَادِہ ثَلَاثَ خِصَالٍ یعنی اللہ رَبُّ الْعِزَّتْ جَلَّ جَلَالُہُ کوبھی اپنے بندوں کی تین خصلتیں محبوب ہیں ۔‘‘
٭…’’بَذْلُ الْاِسْتِطَاعَۃِ یعنی (نیکیوں کے معاملے میں ) اپنی طاقت کو خرچ کرنا۔‘‘٭…’’وَالْبُکَاءُ عِنْدَ النَّدَامَۃِ اور ندامت کے وقت رونا۔‘‘٭…’’وَالصَّبْرُ عِنْدَ الْفَاقَۃِ اور فاقے کی حالت میں صبرکرنا۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم اور بارگاہِ رسالت کی چار چیزیں :
٭…ایک بارحضور نبی ٔکریم، رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے اصحاب کے ساتھ تشریف فرماتھے، مدنی مکالمہ شروع ہو گیا، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا:
٭…’’ اَلْکَوَاکِبُ اَمَانٌ لِاَھْلِ السَّمَاءِ فَاِذَانْتَثَرَتْ کَانَ الْقَضَاءُ عَلٰی اَھْلِ السَّمَاءِ یعنی ستارے آسمان والوں کے لیے اَمان ہیں جب یہ جھڑ جائیں گےتو تقدیر آسمان والوں پر غالب آجائے گی۔‘‘
٭…’’وَاَھْلُ بَیْتِیْ اَمَانٌ لِاُمَّتِیْ فَاِذَا زَالَ اَھْلُ بَیْتِیْ کَانَ الْقَضَاءُ عَلٰی اُمَّتِیْ یعنی میرے اہل بیت میری اُمت کے لیے اَمان ہیں اور جب یہ دنیا سے چلے جائیں گے تو میری اُمت پر قضاء غالب آجائے گی۔‘‘
٭…’’وَاَنَا اَمَانٌ لِاَصْحَابِیْ فَاِذَا ذَھَبْتُ کَانَ الْقَضَاءُ عَلٰی اَصْحَابِیْ یعنی میں خود اپنے صحابہ کے لیے اَمان ہوں اور جب میں اِس دنیا سے چلا جاؤں گا تو قضاء میرے صحابہ پر غالب آجائے گی۔‘‘
٭…’’وَالْجِبَالُ اَمَانٌ لِاَھْلِ الْاَرْضِ فَاِذَا ذَھَبَتْ کَانَ الْقَضَاءُ عَلٰی اَھْلِ الْاَرْضِ یعنی پہاڑ زمین والوں کے لیے اَمان ہیں اور جب یہ پہاڑ ختم ہو جائیں گے تو قضاء اُن پر غالب آجائے گی۔‘‘
٭…خلیفۂ رسول اللہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:
٭…’’اَرْبَعَۃٌ تَمَامُھَا بِاَرْبَعَۃٍ یعنی چار۴ چیزیں چار ۴چیزوں کے ساتھ مکمل ہوتی ہیں ۔‘‘٭…’’تَمَامُ الصَّلَاۃِ بِسَجْدَتَیِ السَّھْوِ ناقص نماز سجدۂ سہو کے ساتھ مکمل ہوتی ہے۔‘‘٭…’’وَالصَّوْمُ بِصَدْقَۃِ الْفِطْرِ اور
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المنبھات ، ص۲۷۔