Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
300 - 831
حاصل کی تھی۔ بارگاہِ رسالت میں   بسا اوقات کئی علمی مکالمے بھی ہوا کرتا تھے جن میں   سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھرپور شرکت فرمایا کرتے۔ حصولِ برکت کے لیے صرف دو۲ مُکَالمے پیش خدمت ہیں  :
فاروقِ اعظم اور بارگاہِ رسالت کی تین محبوب چیزیں  :
ایک بار حضور نبی ٔکریم، رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اپنے اَصحاب کے ساتھ تشریف فرما تھے ، آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے مدنی مکالمہ شروع فرمایا۔سب سے پہلے خود ہی ارشاد فرمایا:
٭… ’’حُبِّبَ اِلَیَّ مِنْ دُنْیَاکُمْ ثَلَاثٌ اَلطِّیْبُ وَالنِّسَاءُ وَجُعِلَتْ قُرَّۃُ عَیْنِیْ فِی الصَّلٰوۃِیعنی مجھے تمہاری دنیا میں   تین چیزیں   پسند ہیں  ، خوشبو لگانا، بیویاں   اور نماز میری آنکھوں   کی ٹھنڈک ہے۔‘‘
٭…  یہ سن کر حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بارگاہِ رسالت میں   عرض کیا:
٭…’’صَدَقْتَ یَارَسُوْلَ اللہِ! وَحُبِّبَ اِلَیَّ مِنَ الدُّنْیَا ثَلَاثٌ یعنی یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ نے سچ فرمایا اور مجھے بھی دنیا کی تین چیزیں   محبوب ہیں  ۔‘‘
٭…’’اَلنَّظْرُ اِلَی وَجْہِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَاور اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے رُخِ روشن کی زیارت کرنا۔‘‘
٭…’’وَاِنْفَاقُ مَالِیْ عَلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمْ اور اپنا مال دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کی ذات مبارکہ پر نچھاور کرنا ۔‘‘
٭…’’وَاَنْ یَکُوْنَ اِبْنَتِیْ تَحْتَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَاور اپنی بیٹی کو خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے نکاح میں   دینا۔‘‘
٭…  یہ سن کر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بارگاہِ صدیقی میں   عرض کیا:
٭…’’صَدَقْتَ یَا اَبَابَکْرٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ وَحُبِّبَ اِلَیَّ مِنَ الدُّنْیَا ثَلَاثٌ یعنی اے صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ! آپ نے سچ فرمایا اور مجھے بھی دنیا کی تین چیزیں   محبوب ہیں  ۔‘‘
٭…’’اَلْاَمْرُ بِالْمَعْرُوْفِ یعنی نیکی کا حکم دینا۔‘‘٭…’’وَالنَّھْیُ عَنِ الْمُنْکَرِ اور برائی سے منع کرنا۔‘‘