Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
299 - 831
فاروقِ اعظم عہدِ رسالت میں   فیصلےکیا کرتے تھے:
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ   کہتے ہیں   کہ مجھ سے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’مَا يَمْنَعُكَ مِنَ الْقَضَاءِ وَقَدْ كَانَ اَبُوْكَ يَقْضِيْ عَلٰى عَهْدِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یعنی اے عبد اللہ بن عمر!تمہیں   لوگوں   کے فیصلے کرنے سے کیا چیز روکتی ہے،تمہارے والد امیر المؤمنین سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  بھی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دور میں   فیصلے کیا کرتے تھے۔‘‘میں   نے عرض کیا: ’’حضور!نہ میں   اپنے والد گرامی کی طرح ہوں   اور نہ ہی آپ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی طرح ہیں   ۔میرے والد گرامی پر جب کسی بات کا فیصلہ کرنا مشکل ہوجاتا تو وہ حضور نبی ٔکریم، رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے پوچھ لیتے اور حضورنبی ٔرحمت، شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کو کوئی اشکال ہوتا تو وہ سیِّدُنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام  کے واسطے سے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے پوچھ لیتے تھے۔ اور مجھےعہدۂ قضاء کی بالکل تمنا نہیں   ہے۔کیونکہ میں   نے رسول اللہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کویہ فرماتے سنا ہے کہ :’’مَنْ كَانَ قَاضِياً فَقَضٰى بِالْجَهْلِ كَانَ مِنْ اَهْلِ النَّارِ وَمَنْ كَانَ قَاضِياًفَقَضٰى بِالْجَوْرِ كَانَ مِنْ اَهْلِ النَّارِ وَمَنْ كَانَ قَاضِياً عَالِماً يَقْضِيْ بِحَقٍّ اَوْ بِعَدْلٍ سَاَلَ التَّفَلُّتَ كَفَافاً یعنی جو قاضی جہالت کے ساتھ فیصلہ کرے گا وہ جہنمی ہے اور جو قاضی ظلم وزیادتی کے ساتھ فیصلہ کرے گا وہ بھی جہنمی ہے اور جو قاضی عالم ہو اور حق کے ساتھ فیصلہ کرے یا عدل وانصاف کے ساتھ فیصلہ کرےتو اس نے برابری کی بنیاد پر جاں   بخشی کا سوال کیا۔‘‘ 
یہ سن کر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرمانے لگے: ’’اے عبد اللہ! یہ حدیث ہمارے قاضیوں   کو نہ سنانا، نہیں   تو وہ منصب قضاء چھوڑ دیں   گے اور ہمارے کام کے نہ رہیں   گے۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم اور نبوی مدنی مکالمے
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کے تمام علمی معاملات اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کا فیضان تھے،آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بارگاہِ رسالت سے قرآن وحدیث کی تعلیم 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…صحیح ابن حبان ،کتاب القضاء،ذکرالزجر عن دخول المرءفی قضاء۔۔۔الخ،ج۷، ص۲۵۷،حدیث:۵۰۳۴، ریاض النضرۃ، ج۱، ص۳۳۵۔