فاروقِ اعظم کی حجۃ الوداع میں رفاقت مصطفےٰ:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ قبولِ اسلام سے لے کر سفر وحضر ہر جگہ دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی معیت میں رہے۔ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی حیات طیبہ میں جو آخری حج ادا فرمایا جس میں قرآن پاک کانزول بھی مکمل ہوگیا اُسے ’’حجۃ الوداع‘‘ کہتے ہیں ، اُس میں بھی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بھرپور رفاقت مصطفےٰ نصیب ہوئی۔ اِسی حج کے موقع پر تکمیل دین کی آیات بھی نازل ہوئیں ، اُس وقت بھی سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی معیت میں تھے، یہی وجہ ہے کہ بعد میں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے جب اِن آیات کے بارے میں کوئی استفسار کرتا تو آپ اُس کی وضاحت فرماتے کہ یہ آیات حجۃ الوداع کے موقع پر نازل ہوئی تھیں ۔ چنانچہ،
٭…حضرت سیِّدُنا طارق بن شھاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ قوم یہودمیں سے ایک شخص (یعنی حضرت سیِّدُنا کعب احبار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جو یہود کے بہت بڑے عالم تھے اور ایمان لے آئے تھے) امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس آئے اور عرض کیا: ’’اِنَّكُمْ تَقْرَؤُوْنَ آيَةً فِيْ كِتَابِكُمْ لَوْ عَلَيْنَا مَعْشَرَ الْيَهُوْدِ نَزَلَتْ لَا تَّخَذْنَا ذٰلِكَ الْيَوْمَ عِيْداً یعنی اے امیر المؤمنین! آپ لوگ اپنی کتاب یعنی قرآن پاک میں ایک ایسی آیت کی تلاوت کرتے ہیں کہ اگر وہی آیت یہود پر نازل ہوتی تو اُس آیت کے نزول کے دن کو وہ عید مناتے۔‘‘آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اِرشاد فرمایا: ’’وہ کون سی آیت ہے؟‘‘ اُنہوں نے سورۂ مائدہ کی آیت مبارکہ تلاوت کی۔ جسے سن کر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اِرشاد فرمایا: ’’فَقَدْ عَلِمْتُ الْيَوْمَ الَّذِى اُنْزِلَتْ فِيهِ وَالسَّاعَةَ وَاَيْنَ رَسُولُ اللّٰهِ حِيْنَ نَزَلَتْ لَيْلَةَ جُمْعَۃٍ وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ بِعَرَفَۃَیعنی میں اس دن اس وقت اور اس مقام کو اچھی طرح جانتا ہوں ، وہ جمعہ کی رات تھی اور ہم سُلْطَانُ الْمُتَوَکِّلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ مقام عرفہ میں تھے۔‘‘(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسلم، کتاب التفسیر، ص۱۶۰۹، حدیث:۵۔ بخاری، کتاب الایمان، باب زیادۃ الایمان ونقصانہ، ج۱، ص۲۸، حدیث:۴۵۔