گیا ہے اُن سے مراد حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وسیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہیں ۔(1)
اور بارہا ایسا بھی ہوا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہی کے مشورے کے مطابق وہ کام ہوا۔بلکہ آپ نے جو رائے پیش کی اُسے بارگاہِ رب العلمین وبارگاہِ رسالت دونوں سے تائید حاصل ہوگئی۔ اِس طرح کے کئی واقعات کتب احادیث میں موجود ہیں ۔ غزوۂ فتح مکہ کے بارے میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ و سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دونوں سے مشاورت کی اورعمل فاروقِ اعظم کی رائے کے مطابق ہوا۔(2)
فاروقِ اعظم مدینہ منورہ کے عامل صدقات تھے:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو عہدِ رسالت میں یہ بھی فضیلت حاصل تھی کہ آپ کو حضورنبی ٔرحمت، شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مدینہ منورہ کے صدقات پر عامل مقرر فرمایا تھا۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا ابن سعدی مالکی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھے صدقات پر عامل بنایا، جب میں نے اپنا کام مکمل کرلیا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھے اُس کی اجرت دینے کا اِرادہ کیا۔ میں نے عرض کیا:’’اِنَّمَا عَمِلْتُ لِلّٰهِ وَاَجْرِي عَلَى اللّٰهِ یعنی اے امیر المؤمنین! میں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لیے کام کیا ہے اور مجھے اِس کا اَجر بھی وہی دے گا۔‘‘ تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اِرشاد فرمایا: ’’خُذْ مَا اُعْطِيتَ یعنی جو تمہیں دیا جارہا ہے وہ لے لو۔‘‘ پھر فرمایا کہ سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مبارک عہد میں مجھے بھی صدقات پر عامل مقرر کیا گیا بعداَزاں رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے اِس کی اَجرت عطا فرمانے کا ارادہ کیاتو میں نے بھی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے یہی عرض کیا جو تم نے مجھ سے کہا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اِذَا اُعْطِيتَ شَيْئًا مِنْ غَيْرِ اَنْ تَسْاَلَ فَكُلْ وَتَصَدَّقْ یعنی اے عمر!جب تمہیں کوئی چیز تمہارے مانگے بغیر ہی مل رہی ہو تو اُسے لے لو، اب تمہاری مرضی کہ اُسے خود کھالو یا رَاہ خدا میں صدقہ کردو۔‘‘(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سنن کبری ، کتاب آداب القاضی، باب مشاورۃ الوالی۔۔۔الخ، ج۱۰، ص۱۸۶، حدیث:۲۰۳۰۰۔
2…مصنف ابن ابی شیبہ،کتاب المغازی،حدیث فتح مکۃ،ج۸،ص۵۴۲،حدیث:۵۳۔
3… مسلم، کتاب الزکاۃ، باب اباحۃ الاخذ۔۔۔الخ، ص۵۲۰، حدیث:۱۱۲۔