Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
296 - 831
رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اِس طرح مانوس کرتے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا جلال، جمال میں   تبدیل ہوجایا کرتا۔ مثلاًمذکورہ بالا روزے سے متعلق سوال والی روایت ہی کو پڑھ لیجئے کہ جیسے ہی اُس شخص نے روزے کے متعلق سوال کیا تو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جلال میں   آگئے لیکن سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فوراً ہی ایسی حکمت عملی اختیار کی کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کا وہ جلال، جمال میں   تبدیل ہوگیا۔ اِسی طرح بخاری شریف کی ایک طویل روایت ہے جس کاخلاصہ کچھ یوں   ہے کہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  میں   یہ مشہورہوگیا کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی اَزواج مطہرات کو طلاق دے دی ہے۔ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فوراً بارگاہِ رسالت میں   حاضر ہوئے ، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو کبیدہ خاطر (رنجیدہ)پایاتو اپنے دلی جذبات کا اظہار کرتے ہوئے عرض گزار ہوئے: ’’اَسْتَاْنِسُ يَا رَسُولَ اللّٰهِ یعنی یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں   آپ سے انسیت بھری گفتگو کرنا چاہتاہوں  ۔‘‘ پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایسی پیاری گفتگو کی کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا ملال جاتا رہا اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  خوش ہوگئے۔(1)
فاروقِ اعظم بارگاہِ رسالت کے مشیر:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بارگاہِ رسالت میں   ایک اور ایسا عظیم مقام ومرتبہ بھی حاصل تھا جس میں   سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے علاوہ کوئی آپ کا شریک نہ تھا، وہ یہ کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بارگاہِ رسالت کے مشیر تھے۔حضور نبی ٔپاک، صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مختلف اُمور پر مُشَاوَرَت فرماتے رہتے تھے ، بلکہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے بھی آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وسیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مُشاورت کرنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ چنانچہ ارشادہوتا ہے: (وَ  شَاوِرْهُمْ  فِی  الْاَمْرِۚ-) (پ۴، آل عمران:۱۵۹) ترجمۂ کنزالایمان: ’’اور کاموں   میں   اُن سے مشورہ لو۔‘‘
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ اِس آیت میں   جن سے مشورہ کرنے کا حکم دیا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…بخاری، کتاب المظالم والغضب، باب الغرفۃ والعلیۃ۔۔۔الخ، ج۲، ص۱۳۳، حدیث:۲۴۶۸ ملتقطا۔