علمی سوالات کرلیا کرتے تھے، آپ کے علم دوست ہونے پر یہ بالکل واضح دلیل ہے، یہی وجہ ہے کہ علم نبوی کا کثیر حصہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے حصے میں آیا۔ ذخیرہ اَحادیث ایسی بے شمار احادیث سے بھرا ہوا ہے جن میں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بارگاہِ رسالت سے علمی خزانے حاصل کرتے نظر آتے ہیں ۔ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مختلف علوم کے بارے میں جاننے کے لیے اسی کتاب کا موضوع ’’اَوصافِ فاروقِ اعظم‘‘ص ۲۰۱کا مطالعہ کیجئے۔
فاروقِ اعظم مزاج شناس رسول تھے:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مشیر ووزیر ہونے کے ساتھ یہ بھی ایک عظیم شرف حاصل کیا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ’’مزاج شناس رسول‘‘ تھے۔ اللہ
عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے رُخِ اَنور کی مختلف حیثیتوں کی پہچان میں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو مہارت حاصل تھی، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ رُخِ مصطفےٰ کو دیکھ کر فوراً پہچان جاتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اَوقات ایک ہی بات کو کوئی اور صحابی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے پوچھتا مگر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مزاج سے آشنا نہ ہونے کے سبب صحیح طریقے سے سوال نہ کر پاتااور وہی سوال آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کرتے تو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اِس کا تفصیلی جواب اِرشاد فرماتے۔ مثلاً صحیح مسلم کی مشہور حدیث پاک ہے جس کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں ایک شخص نے روزے کے متعلق سوال کیا تو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجلال میں آگئے۔ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فوراً مزاجِ رسول کو سمجھا اور وہی سوال کسی اور انداز میں کیا تو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِس کا تفصیلی جواب اِرشاد فرمایا۔(1)
فاروقِ اعظم رسول اللہ کو مانوس کرتے:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو عہدِ رسالت میں نہ صرف یہ سعادت حاصل تھی کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مزاج شناس رسول تھے ،اگر کبھی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جلال میں ہوتے تو آپ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسلم، کتاب الصیام، استحباب صیام ثلاثۃ ایام۔۔۔الخ، ص۵۸۹، حدیث:۱۹۶۔