(11)…’’آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ پختہ عمر والے جنتیوں کے سردار ہیں ۔‘‘(1)
(12)…’’رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سیِّدُنا ابوبکر وعمر کو اپنا رفیق خاص فرمایا۔‘‘ (2)
(13)…’’آپ کی غیر موجودگی میں رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک واقعے پر آپ کے ایمان لانے کا ذکر فرمایا۔‘‘(3)
(14)…’’بوقت وصال رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آپ سے راضی تھے۔‘‘(4)
(15)…’’رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ کو شہادت کی دعا دی۔‘‘(5)
(16)…’’رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ کی اقتداء کا حکم ارشاد فرمایا۔‘‘(6)
(17)…’’آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ محبوب خدا ہیں ۔‘‘(7)
(18)…’’فاروقِ اعظم کی محبت ایمان کی ضمانت ہے۔‘‘ (8)
(19)…’’سیِّدُنا ابوبکر وعمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اسلام کے ماں باپ ہیں ۔‘‘ (9)
فاروقِ اعظم کا علمی ذوق وشوق:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا عہدِ رسالت میں ایک پہلو نہایت ہی شاندا ر ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دیگر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے مقابلے میں رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے بلا جھجک
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… ابن ماجہ، کتاب السنۃ، باب فی فضائل اصحاب۔۔۔الخ، فضل ابی بکر۔۔۔الخ، ج۱، ص۷۵، حدیث: ۱۰۰۔
2…معجم کبیر، باب من روی عن ابن مسعود۔۔۔الخ، ج۱۰، ص۷۷، حدیث: ۱۰۰۰۸۔
3…بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی، باب قول النبی۔۔۔الخ، ج۲، ص۵۱۸، حدیث: ۳۶۶۳۔
4…مستدرک، کتاب معرفۃ الصحابۃ، ذکر فضائل عمر، ج۴، ص۴۷، حدیث: ۴۵۷۱۔
5…ابن ماجہ، کتاب اللباس، باب ما یقول الرجل۔۔۔الخ، ج۴، ص۱۴۲، حدیث: ۳۵۵۸۔
6…ترمذی، کتاب المناقب، باب مناقب ابی بکر۔۔۔الخ، ج۵، ص۳۷۴، حدیث: ۳۶۸۲۔
7…بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی، باب قول النبی۔۔۔الخ، ج۲، ص۵۱۹، حدیث: ۳۶۶۲۔
8…کنزالعمال، کتاب الفضائل، فضل الشیخین۔۔۔الخ، الجزء: ۱۳، ج۷، ص۸، حدیث: ۳۶۱۱۔
9…تاریخ الاسلام للذھبی، ج۳، ص۲۷۴۔