Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
290 - 831
فاروقِ اعظم عہدِرسالت میں  
فاروقِ اعظم بارگاہِ نبوی وصدیقی کے تربیت یافتہ:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عموماً ایسا ہوتاہے کہ جب کسی حاکم کو حکمرانی مل جائے تو اُس کے طور طریقے کھل کر سامنے آجاتے ہیں   اور بسا اوقات ایسی باتیں   بھی اُس سے صادر ہوجاتی ہیں   جو حکمرانی سے پہلے اُس میں   موجود نہ تھیں  ، یقیناً مخلص حکمران وہی ہے جس کا کردار حکمرانی ملنے سے پہلے اور بعد دونوں   صورتوں   میں   یکساں   رہے۔امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی ذات مبارکہ ایسی ہی تھی کہ عَہدِرسالت وعَہدِ صدیقی دونوں   میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اور امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ ساتھ تمام مسلمانوں   کی تائیدوتوثیق حاصل رہی۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کا کردار آپ کی سیرتِ طیبہ کی بہترین عکاسی کرتاہے، اِن دونوں   اَدوار میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی سیرتِ طیبہ کو دیکھنے اور بعد میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کے اپنے عہد میں   آپ کی سیرت کو دیکھنے سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں   ہوجاتی ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  بارگاہِ رسالت اور بارگاہِ صدیقی کے تربیت یافتہ تھے۔کبھی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اِن دونوں   کی مخالفت نہ کی بلکہ اپنے وصالِ ظاہری تک اِنہی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ایسی بے مثال حکمرانی کی جو قیامت تک آنے والےتمام حکمرانوں   کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ 
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے عہدِ رسالت میں   حیاتِ طیبہ کے بے شمار پہلو ہیں  ، بعض تو ایسے ہیں   جنہیں   پورے باب کی حیثیت حاصل ہے، اِنہیں   باب ہی کے طور پر بیان کیا گیا ہے مثلاً:
٭…فاروقِ اعظم کا قبولِ اسلام				٭…فاروقِ اعظم کی ہجرت 
٭…فاروقِ اعظم کا عشق رسول				٭…فاروقِ اعظم کے غزوات وسرایا
اِن کے علاوہ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے عہدِ رسالت کے کئی روشن پہلو ہیں  ۔ تفصیل درج ذیل ہے:
فاروقِ اعظم کی فضائل میں   اِنفرادیت:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! محبوب رب کائنات، فخر موجودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہِ بے کس پناہ