Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
288 - 831
دعاکی اہمیت بیان کرتے ہوئے رئیس المتکلمین مولانا نقی علی خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن اِرشاد فرماتے ہیں   :’’اے عزیز! دعا ایک عجیب نعمت اور عمدہ دولت ہے کہ پروردگار تَقَدَّسَ وَتَعَالٰی نے اپنے بندوں   کو کرامت فرمائی اور اُن کو تعلیم کی،حلِ مشکلات میں   اس سے زیادہ کوئی چیز مؤثر نہیں  ، اور دفعِ بلا وآفت میں   کوئی بات اس سے بہتر نہیں  ۔‘‘(1)دعا کے اس قدر مفید اور نفع بخش ہونے کے باوجود اس سے استفادہ اسی صورت میں   ممکن ہے جبکہ اس کے شرائط و آداب بھی ملحوظِ خاطر رہیں   ورنہ عین ممکن ہے کہ دعا کرنا فائدہ مند نہ ہو۔دعا کے فضائل وآداب اور اس سے متعلقہ احکام پر مشتمل دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبہ المدینہ کی مطبوعہ 326صفحات پر مشتمل کتاب ’’فضائل دعا‘‘ کا مطالعہ فرمائیے۔
یَا اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے اصلاحی اقوال زریں  ، نصیحت آموز خطبات، فکر آخرت سے بھرپور وصیتیں   اور عجزوانکساری سے معمور دعاؤں   سے فیضیاب فرما، ہمیں   ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے جتنا دنیا میں   رہنا ہے اتنا دنیا کے لیے، اور جتنا آخرت میں   رہتا ہے اتنا آخرت کی تیار کرنے کی توفیق مرحمت فرما، یَا  اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں   معاف فرمادے، ہم سے ہمیشہ کے لیے راضی ہو جا، کل بروز قیامت اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شفاعت نصیب فرما، ہمیں   سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شفاعت نصیب فرما، سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شفاعت نصیب فرما، سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شفاعت نصیب فرما، مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  کی شفاعت نصیب فرما، ہمیں   جنت الفردوس میں   ان تمام مقدس ہستیوں   کا پڑوس نصیب فرما۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم 
عفو کر اور صدا کے لیے راضی ہو جا
گر کرم کر دے تو جنّت میں   رہوں   گا یا رب
گر تو ناراض ہوا میری ہلاکت ہوگی
ہائے میں   نار جہنم میں   جلوں   گا یارب
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…فضائل دعا، ص۳۱۔