تَجْعَلَنِیْ مِنَ الْغَافِلِیْنَ یعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں کہ تو میری نافرمانی پر پکڑ فرما، یا مجھے غفلت میں چھوڑ دے یا مجھے غافل کردے۔‘‘(1)
قلیل لوگوں میں سے بنائے جانے کی دعا:
حضرت سیِّدُنا اِبراہیم تیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس یوں دعا مانگی:’’اَللّٰہُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنَ الْقَلِیْلِیعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے قلیل (تھوڑے) لوگوں میں سے بنادے۔‘‘سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا: ’’مَا هَذَا الَّذِي تَدْعُو بِهِ ؟ یہ کس طرح کی دعا مانگ رہے ہو؟ اس نے عرض کیا:’’انِّي سَمِعْت اللَّهَ يَقُولُ وَقَلِيلٌ مِنْ عِبَادِي الشَّكُورُ فَاَنَا اَدْعُو اَنْ يَجْعَلَنِي مِنْ اُولَئِكَ الْقَلِيلِیعنی میں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا یہ ارشاد سنا ہے: (وَ قَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّكُوْرُ(۱۳)) (پ۲۲، السبا:۱۳) ترجمۂ کنزالایمان: ’’اور میرے بندوں میں کم ہیں شکر والے ۔‘‘ اسی لیے میں یہ دعا مانگ رہا ہوں کہ مجھے ان ہی قلیل لوگوں میں سے بناد ے۔‘‘ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بصد عاجزی کرتے ہوئے ارشاد فرمانے لگے: ’’كُلُّ النَّاسِ اَعْلَمُ مِنْ عُمَرَ یعنی سارے ہی لوگ عمر سے زیادہ جانتے ہیں ۔‘‘(2)
بخشش ومغفرت حاصل کرنے کا آسان ذریعہ:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دُعا ، اللہ ربُّ العزت عَزَّ وَجَلَّ سے مناجات کرنے، اس کی قربت حاصل کرنے، اس کے فضل وانعام کے مستحق ہونے اور بخشش و مغفرت کا پروانہ حاصل کرنے کا نہایت آسان اورمجرب ذریعہ ہے۔ اسی طرح دعا پیارے آقا مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی متوارث سنت، اللہ ربُّ العزت عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے بندوں کی متواترعادت، درحقیقت عبادت بلکہ مغزِ عبادت،اورگنہگار بندوں کے حق میں اللہ ربُّ العزت عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے ایک بہت بڑی نعمت و سعادت ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الدعاء، باب ما ذکر عن ابی بکر وعمر، ج۷، ص۸۲، حدیث:۸۔
2…مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الدعاء، باب ما ذکر عن ابی بکر وعمر، ج۷، ص۸۱، حدیث:۵۔