(8)خواہشات قلبی سےنجات و رِزق میں برکت کی دعا:
حضرت سیِّدُنا حسان بن فائد عبسی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ یہ دعا مانگا کرتے تھے:
٭…’’اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ غِنَائیْ فِی قَلْبِیْ وَرَغْبَتِیْ فِیْمَا عِنْدَكَ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! مجھے دل کی تونگری نصیب فرما اور جو تیرے پاس ہے اس میں رغبت عطا فرما۔
٭… وَبَارِكْ لِیْ فیْمَا رَزَقْتَنِیْ وَاَغْنِنِیْ عَمَّا حَرَّمْتَ عَلَیَّ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میرے رزق میں برکت عطا فرما اور حرام کردہ چیزوں سے دو ر رہنے کی توفیق عطا فرما۔‘‘(1)
(9) نمازِ جنازہ کے بعد کی دعا:
حضرت سیِّدُنا سعید بن مسیب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک شخص کی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد اس کے لیے یوں دعا فرمائی:
٭’’اَللّٰھُمَّ اَصْبَحَ عَبْدُكَ ہٰذَا قَدْ تَخَلَّی مِنَ الدُّنْیَا وَتَرَكَھَالِاَھْلِھَا وَ اسْتَغْنَیْتَ عَنْہُ وَافْتَقَرَ اِلَیْکَ یعنی یا اللہ عَزَّ وَجَلَّ!تیرے اس بندے نے اس حال میں صبح کی ہے کہ یہ دنیا کے مال ومتاع سے خالی ہے اور اس نے دنیا کو اپنے اہل کے لیے چھوڑ دیا ہے اور یہ صرف تیرا ہی محتاج ہے حالانکہ تو اِس سے بے پرواہ ہے۔‘‘
٭’’كَانَ یَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُوْلُكَیعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! تیرا یہ بندہ گواہی دیتا تھا کہ اللہ
عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں ۔‘‘
٭’’اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لَہُ وَتَجَاوِزْ عَنْہُ وَالْحِقْہُ بِنَبِیِّہٖ یعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! اس کی مغفرت فرما اور اس کے گناہوں سے درگزر فرما اور اسے اپنے نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ ملحق فرما۔‘‘(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الدعاء، باب ما ذکر عن ابی بکر وعمر، ج۷، ص۸۱، حدیث:۳۔
2…مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الدعا، ما یدعی بہ فی الصلاۃ علی الجنائز، ج۷، ص۱۲۶، حدیث:۶۔
کنزالعمال، کتاب الموت، صلاۃ الجنائز، الجزء: ۱۵، ج۸، ص۲۹۹، حدیث: ۴۲۸۱۷۔