Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
284 - 831
کہ میں   گمراہ ہوجاؤں  ، نہ ہی قلت فرماکہ تجھے بھول جاؤں   کیونکہ بقدر کفایت رزق غافل کردینے والے کثیر رزق سے کئی گنابہتر ہے۔ (1)
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دورانِ طواف اکثر ایک ہی دعا پڑھا کرتے تھے البتہ بعض اَوقات اُس میں   تبدیلی بھی کردیا کرتے تھے۔ آپ  کی دو دعائیں   یہ ہیں  :
(6)طواف کرتے وقت کی دعا:
حضرت سیِّدُنا ابن ابی نجیح رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ، حضرت سیِّدُنا عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دوران طواف اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے:’’رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنیَا حَسَنَۃً وَفِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِیعنی اے ہمارے رب عَزَّ وَجَلَّ! ہمیں   دنیا میں   بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں   بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں   جہنم کے عذاب سے بچا۔‘‘(2)
(7)طواف کرتے وقت کی ایک اوردعا:
حضرت سیِّدُنا ابو سعید بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دوران طواف یہ دعا پڑھ رہے تھے:’’لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ لَہُ الْمُلْكُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ  رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَفِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِیعنی  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں  ، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں  ، اسی کے لیے بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں   ہیں   اور وہ ہرچیز پر قادرہے، اے ہمارے رب عَزَّ وَجَلَّ! ہمیں   دنیا میں   بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں   بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں   جہنم کے عذاب سے بچا۔‘‘ (3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الدعاء، باب ما ذکر عن ابی بکر وعمر، ج۷، ص۸۲، حدیث:۷۔
2…اخبار مکۃ ، ج۱، ص۲۳۰، الرقم:۴۲۰۔ کتاب الدعا للطبرانی، جامع ابواب الحج، القول فی الطواف، ص۲۶۹، حدیث:۸۵۷۔
3…کنزالعمال، کتاب الحج والعمرۃ، ادعیتہ، الجزء:۵، ج۳، ص۶۷، حدیث:۱۲۴۹۸۔