Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
283 - 831
 نے مجھے وہ لباس پہنایا جس سے میں   ستر پوشی کرتا ہوں   اور اس سے اپنی زندگی میں   زینت حاصل کرتاہوں  ۔‘‘
پھر ارشاد فرمایا کہ’’ میں   نے اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو یہ فرماتےسنا:’’جو نیا لباس پہنے اور یوں   کہے:الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي كَسَانِي مَا اُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي وَاَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَيَاتِي یعنی تما م تعریفیں   اس خدا کیلئے جس نے مجھے پہنایا اورمیرے ستر کو ڈھانپا اوراس سے میں   اپنی زندگی میں   زینت حاصل کرتاہوں  ۔اور پھر پرانا ہونے پر اس لباس کو صدقہ کردے تو وہ اپنی زندگی میں   بھی اور مرنے کے بعد بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ و امان میں   رہے گا۔‘‘(1)
(5)صلاۃ اللیل سے پہلے اور بعد کی دعا:
 	امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فارو ق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جب صلاۃ اللیل کے لیے کھڑے ہوتے تو بارگاہِ الٰہی میں   یوں   دعا کرتے:’’قَدْ تَرَى مَقَامِیْ وَتَعْلَمُ حَاجَتِیْ فَارْجِعْنِیْ مِنْ عِنْدِكَ یَااللہُ بِحَاجَتِیْ مُفَلَّجًا مُنَجَّحًا مُسْتَجِیْبًا مُسْتَجَابًا لِیْ، قَدْ غَفَرْتَ لِیْ وَرَحِمْتَنِیْیعنی یا اللہ عَزَّ وَجَلَّ! بلا شبہ تو میری حیثیت سے بخوبی آگاہ ہے اور میری حاجت کو بھی جانتا ہے، لہٰذا تو مجھے اپنی بارگاہ سے میری حاجت پوری فرما اس حال میں   کہ میں   بکھرچکا   ہوں  ، تیری عطا سے اپنی حاجتیں   پانے والا ہوں  ، تیری بارگاہ سے مانگنے والا اور پانے والا ہوں  ، تو میری مغفرت فرما اور مجھ پر رحم فرما۔‘‘
اورجب صلاۃ اللیل سے فارغ ہوتے تو بارگاہِ الٰہی میں   یوں   دعا کرتے:’’اَللّٰہُمَّ لاَ اَرَى شَیْئًا مِنَ الدُّنْیَایَدُوْمُ ، وَلَا اَرَى حَالاً فِیْھَایَسْتَقِیْمُ اَللّٰہُمَّ اجْعَلْنِیْ اَنْطِقُ فِیْھَا بِعِلْمٍ وَاَصْمُتُ بِحُكْمٍ اَللّٰہُمَّ لاَ تُكْثِرْ لِیْ مِنَ الدُّنْیَا  فَاَطْغَى ، وَلَا تُقِلَّ لِیْ مِنْھَافَاَنْسٰی، فَاِنَّہُ مَا قَلَّ وَكَفَى خَیْرٌ مِمَّا كَثُرَ وَاَلْہٰییعنی یا اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میں   دنیا کی کسی شے کو دائمی نہیں   سمجھتا اور نہ ہی دنیاوی حالت کو یکساں   سمجھتاہوں  ، یا اللہ عَزَّ وَجَلَّ! مجھے علمی گفتگو کرنے، حکم شریعت پر خاموشی اختیار کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ عَزَّ وَجَلَّ! مجھ پر دنیا کی کثرت نہ فرما 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…ابن ماجہ، کتاب اللباس، باب ما یقول الرجل۔۔۔الخ، ج۴، ص۱۴۲، حدیث:۳۵۵۷۔ ترمذی، احادیث شتی، باب من ابواب الدعوات، ج۵، ص۳۲۷، حدیث:۳۵۷۱۔