Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
281 - 831
 وانعام کے مستحق ہونے اور بخشش و مغفرت کا پروانہ حاصل کرنے کا نہایت آسان اورمجرب ذریعہ دُعا ہے۔دُعا مانگنا ہمارے پیارے آقا، حضور نبی ٔکریم، رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنت مبارکہ،  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے بندوں   کی متواترعادت، درحقیقت عبادت بلکہ مغزِ عبادت اورگنہگار بندوں   کے حق میں    اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے ایک بہت بڑی نعمت اور عظیم سعادت ہے۔ بعض حضرات دعا کی قبولیت کے شاکی ہوتے ہیں   کہ ہماری دعائیں   قبول نہیں   ہوتیں  ، لہٰذا قبولیت دعاکی شرائط سے متعلق سورۂ مومن کی آیت نمبر۶۰کے تحت صدر الافاضل، مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی  عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی کی بیان کردہ تفسیرسے ایک نہایت جامع اقتباس ملاحظہ فرمائیں  :
’’اللہ تعالٰی بندوں   کی دعائیں   اپنی رحمت سے قبول فرماتا ہے اور ان کے قبول کے لیے چند شرطیں   ہیں  :(۱) ایک اخلاص دعا میں  (۲) دوسرے یہ کہ قلب (دل)غیر کی طرف مشغول نہ ہو (۳)تیسرے یہ کہ وہ دعا کسی امرِ ممنوع پر مشتمل نہ ہو (۴)چوتھے یہ کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت پر یقین رکھتا ہو (۵)پانچویں   یہ کہ شکایت نہ کرے کہ میں   نے دعا مانگی قبول نہ ہوئی۔ جب ان شرطوں   سے دعا کی جاتی ہے، قبول ہوتی ہے۔ حدیث شریف میں   ہے کہ’’ دعا کرنے والے کی دعا قبول ہوتی ہے۔‘‘ یا تو اس کی مراد دنیا ہی میں   اس کو جلد دے دی جاتی ہے یا آخرت میں   اس کے لیے ذخیرہ ہوتی ہے یااس سے اس کے گناہوں   کا کفارہ کردیا جاتا ہے۔‘‘(1)
واضح رہے کہ دعا مانگنے کا کوئی وقت مخصوص نہیں  ، نماز سے پہلے دعا مانگنا بھی جائز تو بعد میں   مانگنا بھی جائز، فرض نماز کے بعد بھی جائز، نفل نماز کے بعد بھی جائز، ایک بار دعا مانگنے کے بعد دوبارہ دعا مانگنا بھی جائز ہے۔یہی وجہ ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی مختلف مواقع پر مختلف دعائیں   مذکور ہیں  ، سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی چند دعائیں   ملاحظہ کیجئے:
(1)نرمی، طاقت اور سخاوت کی دعا:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے خلیفۂ اَوّل حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے وصال کے بعد عوام النا س کے سامنے پہلا طویل خطبہ ارشاد فرمایا، اور پھر آخر میں   یوں   دعا کی:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1… خزائن العرفان، پ۲۴، المومن، تحت الآیۃ:۶۰۔