جو چاہے عرض کردینا۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم کی تقوے کی وصیت:
حضرت سیِّدُنا سماک بن حرب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے کھڑے ہونے کی جگہ سے دو سیڑھی نیچے منبر پر کھڑے ہوکر ارشاد فرمایا: ’’اُوْصِيْكُمْ بِتَقْوَى اللہِ وَ اسْمَعُوْا وَاَطِيْعُوْا لِمَنْ وَلَّاهُ اللہُ اَمْرَكُمْ یعنی میں تمہیں تقوے کی وصیت کرتاہوں ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جسے تمہارا حکمران بنایا ہے اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو۔‘‘(2)
خلوت میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرنے کی وصیت:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا: ’’اُوْصِيْكُمْ بِاللّٰهِ اِذًا بِاللّٰہِ خَلَوْتُمْیعنی میں تمہیں تنہائی میں بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرنے کی وصیت کرتاہوں ۔‘‘(3)
نیک لوگوں کو اپنا دوست بنانے کی وصیت:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’اِعْتَزِلْ مَا يُؤْذِيْكَ وَعَلَيْكَ بِالْخَلِيْلِ الصَّالِحِ وَقَلَّمَا تَجِدْهُ وَشَاوِرْ فِيْ اَمْرِكَ الَّذِيْنَ يَخَافُوْنَ اللہ یعنی جو چیز تمہیں اذیت پہنچائے اس سےدور رہو، نیک ،صالح شخص کو اپنا دوست بناؤ اوریہ تمہیں کم ہی ملیں گے۔اور جو لوگ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرتے ہیں اُن سے مشاورت کرو۔‘‘(4)
برائی سرزد ہوجائے تو اچھائی کرلو:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک شخص کو وعظ ونصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
٭’’لوگوں سے ہردم ہوشیار رہو کہ وہ کہیں تمہیں ہلاکت میں نہ ڈال دیں کیونکہ تمہارا معاملہ تمہاری ہی طرف لوٹے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ ابن عساکر، ج۴۴،ص۳۵۸۔
2…کنزالعمال، کتاب المواعظ، خطب عمر ومواعظہ، الجزء:۱۶، ج۸، ص۶۶، حدیث: ۴۴۱۹۰۔
3…شعب الایما ن للبیھقی،باب فی اخلاص العمل ۔۔۔الخ،ج۵،ص۳۲۸،حدیث:۶۸۱۰ ۔
4…شعب الایمان للبیھقی، باب فی مباعدۃ الکفار۔۔۔الخ، مجانبۃ الفسقۃ والمبتدعۃ، ج۷، ص۵۶، حدیث:۹۴۴۲ ۔