Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
278 - 831
 ان پر بھی وصیت کا اطلاق ہوتاہے۔ بہرحال کسی شخص کی وصیتیں   وہی باتیں   ہوتی ہیں   جن پر عمل کرنے میں   کم از کم اس کے نزدیک فائدہ ہی فائدہ ہوتا ہے،نیز وہ اُن پر عمل کو ضروری سمجھتا ہے۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مختلف لوگوں   کو مختلف مواقع پر کئی وصیتیں   فرمائیں  ، جو اصلاح کے بے شمار مدنی پھولوں   پر مشتمل ہیں  ۔چند وصیتیں   ملاحظہ کیجئے۔
9 مدنی پھولوں   پرمشتمل نصیحت آموز وصیتوں   کا فاروقی گلدستہ:
حضرت سیِّدُنا حسن رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ ایک شخص امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں   حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا:’’اےامیر المؤمنین! میں   دیہات کا رہنے والا ہوں   اور میری بہت مصروفیات ہیں  ، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مجھے پختہ اور واضح وصیتیں   کیجئے۔‘‘سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ’’ ہمیشہ عقلمندی سے کام لو ۔‘‘ پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر وصیتیں   کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
٭’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ ۔‘‘٭’’اور نماز ادا کرتے رہو۔‘‘٭’’اور فرض زکوۃ ادا کرتے رہو۔‘‘٭’’اور حج وعمرہ کرتے رہو ۔‘‘٭’’اور اپنے امیر کی اطاعت بجالاؤ ۔‘‘٭’’اور مسلمانوں   کے بالکل واضح طریقے پر چلنا تجھ پر لازم ہے۔‘‘٭’’اور ایسے خفیہ طریقے پر چلنے سے بچ جسے مسلمان جانتے ہی نہ ہو۔‘‘٭’’اور ہراس چیز کو اپنے اوپر لازم کرلو جسے بیان کرنے اور پھیلانے میں   تمہیں   شرم محسوس نہ ہواور نہ ہی وہ تمہیں   رسوا کرے۔‘‘٭’’اور ہر ایسی چیز سے بچو جسے بیان کرنے اور پھیلانے میں   تمہیں   شرم محسوس ہواور وہ تمہیں   رسوا کر دے۔‘‘یہ تمام وصیتیں   سن کر اس بدوی نے بارگاہِ فاروقی میں   عرض کیا: ’’يَا اَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ! اَعْمَلُ بِهِنَّ، فَاِذَا لَقَيْتُ رَبِّيْ اَقُوْلُ اَخْبَرَنِيْ بِهِنَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ یعنی اے امیر المؤمنین میں   ان امور پر ہمیشہ عمل کرتارہوں   گا اور جب رب تعالی سے میری ملاقات ہوگی تو میں   عرض کروں   گا کہ یااللہ عَزَّ وَجَلَّ! یہ سب باتیں   مجھے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سکھائی تھیں  ۔‘‘ یہ سن کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ’’خُذْهُنَّ فَاِذَا لَقَيْتَ رَبَّكَ فَقُلْ لَّهُ مَا بَدَاَ لَكَیعنی ان نصیحتوں   کو پہلے اپنے پلے سے باندھ لو پھر جب رب سے ملاقات کرو تو وہاں