Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
277 - 831
 شیخ طریقت، امیر اہلسنت ، بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے رسالے ’’مردے کے صدمے‘‘ کے آخر میں   تحریر فرماتے ہیں   کہ: ’’نگران سے مراد صرف کسی ملک یا شہر یا مذہبی و سماجی و سیاسی تنظیم کا ذمہ دارہی نہیں   بلکہ عموماًہر شخص کسی نہ کسی کا ذمہ دار ہو تا ہے مثلاً مراقب( یعنی سپر وائزر)اپنے ماتحت مزدوروں   کا، افسر اپنے کلرکوں   کا ،امیرِ قافلہ اپنے قافلوں   کا اور ذیلی نگران اپنے ماتحت اسلامی بھائیوں   کا ۔ یہ ایسے معاملات ہیں   کہ ان نگرانیوں   سے فراغت مشکل ہے۔ بالفرض اگر کو ئی تنظیمی ذمہ داری سے مستعفی ہو بھی جائے تب بھی اگر شادی شدہ ہے تو اپنے بال بچوں   کا نگران ہے۔ اب وہ اگر چاہے کہ ان کی نگرانی سے گلو خلاصی ہو تو نہیں   ہو سکتی۔ بہرحال ہر نگران سخت امتحان سے دوچار ہے مگر ہاں   جو انصاف کرے اس کے وارے نیارے ہیں   چنانچہ ارشادِ رحمت بنیاد ہے: ’’انصاف کر نے والے نور کے منبروں   پر ہوں   گے یہ وہ لوگ ہیں   جو اپنے فیصلوں   ،گھر والوں   اور جن جن کے نگران بنتے ہیں   ان کے بارے میں   عدل سے کام لیتے ہیں   ۔‘‘(1)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ بالا تحریر سے واضح ہوا کہ ہم میں   سے ہر ایک ذمہ دار ہے، والدین اپنی اولاد کے، اساتذہ اپنے شاگردوں   کے،شوہر اپنی بیوی کا وغیرہ وغیرہ۔ لہٰذا ! ہمیں   چاہے کہ اپنے اندر ذمہ داری کا احساس پیدا کریں   اور اپنی اصلاح کی کوشش کرتے رہیں   تاکہ ہمارے ماتحت بھی اپنی اصلاح کی کوشش میں   لگے رہیں  ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
فاروقِ اعظم کی وصیتیں  
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! نصیحت عبرت دلانے والی بات یا اس بات کو کہتے ہیں   جس میں   کوئی نیک مشورہ شامل ہو، جبکہ سفر کو جاتے وقت یا زندگی کے آخری لمحات میں   جو باتیں   کی جاتی ہیں   وہ وصیت کہلاتی ہیں  ۔ عوام الناس عموماً وصیت اُن ہی باتوں   کو سمجھتے ہیں   جو زندگی کے آخری لمحات میں   کی جائیں   جبکہ ایسا نہیں   ہے، بلکہ وصیت اُن باتوں   کو بھی کہتے ہیں   جو عام زندگی میں   اِس انداز میں   کی جائیں   کہ گویا آخری دم تک اُن پر عمل کرنا ضروری ہے، یا وہ باتیں   جن پر عمل کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو، یا وہ جو کسی کی زندگی کے تجربات کا نچوڑ ہوں  ، یا وہ کلام اور گفتگو جو فکر آخرت پر مشتمل ہوں  
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…نسائی، کتاب آداب القضاۃ،فضل الحاکم۔۔۔الخ،ص۸۵۱،حدیث:۵۳۸۹۔