Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
276 - 831
جمع ہوجائیں   گے نتیجتاً تمہیں   نقصان اٹھانا پڑے گا یا تمہارا نقصان ہوجائے گا۔٭’’اگر تمہیں   دو کاموں   میں   اختیار دیا جائے ان میں   سے ایک دنیاوی ہو اور دوسرا اخروی تو تم اخروی کو دنیاوی پر ترجیح دو،کیونکہ دنیا فانی ہے اور آخرت باقی رہنے والی ہے۔‘‘٭’’اللہ 
عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرتے رہو اور کتاب اللہ کو سیکھتے سکھاتے رہو کیونکہ کتاب اللہ علم کا چشمہ اور دلوں   کی بہار ہے۔ ‘‘(1)
ایک ذمہ دار کو کیسا ہونا چاہیے۔۔۔؟
حضرت سیِّدُنا سعید بن ابی بردہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کو ایک مکتوب لکھا جس کا مضمون کچھ یوں   تھا:
٭’’حمد وصلاۃ کے بعد!میں   کہتا ہوں   کہ حکمرانوں   میں   سب سے زیادہ خوش بخت وہ ہیں   جن کی رعایااچھی ہو ۔‘‘٭’’اور سب سے زیادہ بدبخت وہ ہے جس کی رعایا بری ہو۔‘‘٭’’اور تم خلاف شریعت کاموں  سے بچو ورنہ تمہاری رعایا بھی خلاف شرع کاموں   میں   پڑجائے گی۔‘‘٭’’پس اگر تم نے اس پر عمل نہ کیا تو تمہاری مثال اس چوپائے کی سی ہو جائے گی جو زمین پر سبزہ دیکھے اوروہ اس میں   چرنے لگ جائے، وہ اس سے افزائش جسم اورفربہ ہونا چاہتا ہے حالانکہ اس مال کا اس کے جسم کا حصہ ہونا اس کے لیے ہلاکت ہے۔‘‘(2)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واقعی اگر حاکم یا نگران وغیرہ کوئی بھی ذمہ دار خود کو صحیح کرلے تو اس کی رعایا خود بخود درست ہوجائےگی، کیونکہ اس کا عمل ان سب کے لیے حجت ہے۔ آپ کتنی ہی بڑی ذمہ داری پر فائز کیوں   نہ ہوں   اپنے مدنی مقصد کو ہر گز نہ بھولیں   کہ ’’مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں   کی اصلاح کی کو شش کر نی ہے، اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  ۔‘‘ اپنی اصلاح کے لئے مدنی انعامات پر عمل اور ساری دنیا کے لوگوں   کی اصلاح کی کوشش کے لئے مدنی قافلوں   میں   سفر کرنے کو اپنا معمول بنا لیجئے۔ہوسکتا ہے کسی اسلامی بھائی کے ذہن میں   یہ خیال پیدا ہو کہ میں   تو کسی علاقے وغیرہ کا نگران نہیں  ، نہ ہی میرے ماتحت کوئی اسلامی بھائی ہیں   لہٰذا مجھے دینی کام کی کوئی حاجت نہیں  ۔ایسے اسلامی بھائیوں   کے لیے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الزھد، کلام الحسن البصری، ج۸، ص۲۶۶، حدیث:۱۰۹۔
2…مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الزھد، کلام عمر بن الخطاب، ج۸، ص۱۴۷، حدیث:۷۔