Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
274 - 831
 آپ بارگاہِ رسالت ہی کے تربیت یافتہ تھے۔آپ کےچند مکتوب ملاحظہ کیجئے۔
گیارہ 11مدنی پھولوں   پر مشتمل بیٹے کو نصیحت آموز فاروقی مکتوب:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے بیٹے حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ایک مکتوب لکھا جس میں   ارشاد فرمایا:
٭…’’اَمَّا بَعْدُ!فَاِنِّيْ اُوْصِيْكَ بِتَقْوَى اللہِ فَاِنَّهُ مَنِ اتَّقٰى اللہَ وَقَّاهُ یعنی حمد وصلوۃ کے بعد میں   تمہیں   تقوی اختیار کرنے کی وصیت کرتاہوں   کیو نکہ جو شخص تقویٰ اختیار کرتاہے اللہ عَزَّ وَجَلَّاسے بچالیتاہے۔‘‘
٭…’’وَمَنْ تَوَكَّلَ عَلَيْهِ كَفَاهُاور جو  اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر توکل کرتاہے اللہ عَزَّ وَجَلَّاسے کافی ہوتاہے۔‘‘
٭…’’وَمَنْ اَقْرَضَهُ جَزَاهُاورجو شخص  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو قرض دیتاہے  اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے بہتر بدلہ دیتاہے ۔‘‘
٭…’’وَمَنْ شَكَرَ زَادَهُاورجو شکر ادا کرتاہے  اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے مزید عطا فرماتاہے۔‘‘
٭… تقویٰ تمہارا نصب العین، عمل کی بنیاد اور دل کی جلاء ہے۔‘‘
٭…’’فَاِنَّهُ لَا عَمَلَ لِمَنْ لَا نِيَّةَ لَهُیعنی بغیراچھی نیت کے کسی عمل خیر کا ثواب نہیں  ۔‘‘
٭…’’وَلَا اَجْرَ لِمَنْ لَا حَسْبَةَ لَهُاوربغیر رضائے الٰہی کے کسی عمل پراجر نہیں   ۔‘‘
٭…’’وَلَا مَالَ لِمَنْ لَا رِفْقَ لَهُاورجس میں   نرمی نہیں   اس کے پاس مال ہونے کا کوئی فائدہ نہیں  ۔‘‘
٭…’’وَلَا جَدِيْدَ لِمَنْ لَا خُلُقَ لَهُاور جس میں   عمدہ اَخلاق نہیں   اس میں   کوئی بزرگی نہیں  ۔ ‘‘(1)
چار4 مدنی پھولوں   پر مشتمل ایک گورنر کو نصیحت آموز فاروقی مکتوب:
حضرت سیِّدُنا جعفر بن برقان رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   فرماتے ہیں   مجھے معلوم ہوا ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے ایک گورنر کو مکتوب لکھا جس کے آخر میں   کچھ اس طرح کا مضمون تھا: 
٭’’شدت و سختی کے حساب سے پہلے پہلے کشادگی اور نرمی میں   اپنا محاسبہ کرو ۔‘‘٭’’ جو شخص شدت وسختی کے حساب سے پہلے پہلےآسودگی میں   اپنا محاسبہ کرتاہے تو وہ رضاء ورشک کی طرف لوٹتاہے۔‘‘٭’’جسے زندگی یاد الہی سے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…کنزالعمال، کتاب المواعظ، خطب عمر ومواعظہ، الجزء:۱۶، ج۸، ص۶۵، حدیث:۴۴۱۸۲۔