عَنْہ اپنے خطبے میں ارشاد فرمایا کرتے تھے:٭’’تم میں سے وہ شخص کامیاب وکامران ہوا جو خواہشات نفس، طمع اور غصے پر عمل کرنے سے محفوظ رہا اور اسے گفتگو میں سچ بولنے کی توفیق دی گئی،کیونکہ سچ بھلائی کی طرف لے جاتاہے ۔‘‘٭’’جو جھوٹ بولتاہے وہ سرکشی کرتاہے اور جو سرکشی کرتاہے وہ ہلاک ہو جاتاہے لہٰذا سرکشی سے بچو۔‘‘٭’’دن بدن اچھے اعمال کرتے رہو، مظلوم کی بددعا سے بچو اور اپنے آپ کومُردوں میں شمار کرو۔‘‘(1)
مکتوباتِ فاروقِ اعظم
فاروقِ اعظم بارگاہِ رسالت کے تربیت یافتہ تھے:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آج کل کے جدید دور میں تو ایک دوسرے سے رابطے کے بے شمار ذرائع موجود ہیں لیکن صدیوں پہلے اگر کوئی رابطے کا ذریعہ تھا تو وہ صرف مکتوب تھا۔ایک دوسرے کی خیر خیریت، تازہ حالات سے آگاہی، جنگی معاملات میں مشاورت، عمال وگورنروں کا بادشاہوں سے رابطہ وغیرہ ہر قسم کی معلومات ومعاملات خط وکتابت ہی کے ذریعے کیے جاتے تھے۔خصوصاً ایک ملک کے دوسرے ملک کے ساتھ سفارتی معاملات میں مکتوب کو بڑی اہمیت حاصل تھی، ایک بادشاہ کا جب کوئی مکتوب کسی دوسرے ملک کے بادشاہ کے دربار میں جاتا تو اس پر مختلف پہلوؤں سے بادشاہ کے دربار میں موجود ماہرین غوروخوض کرتے اور اس سے نتائج اخذ کرتے۔ لہٰذا کسی بھی ملک کے بادشاہ کو علم التحریرکے اُصول وضوابط کو جاننا، فصاحت وبلاغت، استعاروں کا بہترین استعمال، ذو معنی کلام، مخففات کا استعمال، الفاظوں کی ترتیب اور مختصر الفاظ میں جامع مانع کلام کرنے جیسی تمام صلاحیتیں ہونا بہت ضروری تھا، بادشاہوں کی پُراثر تحریر کا وزیروں ، مشیروں ، درباریوں اور تمام رعایا پر بہت گہرا اثر پڑتا تھا۔بِحَمْدِ اللہ تَعَالٰی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطا اور حضور نبی ٔکریم، رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فضل وکرم سے ان تمام صلاحیتوں کے جامع تھے، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے عزیزواقرباء، کمانڈروں ، عمالوں ، گورنروں ، قاضیوں اور عام لوگوں کو اصلاحی، سماجی، فلاحی، سیاسی، مذہبی اور عوامی امور پر مختلف اقسام کے مکتوب لکھے جن سے کتب سیر وتاریخ بھری پڑی ہیں ، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مکتوب پڑھنے والا یہ کہنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ واقعی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سنن کبری ،کتاب الجمعۃ،باب کیف یستحب ۔۔۔الخ،ج۳،ص۳۰۵،حدیث:۵۸۰۴۔