(9)ملک شام میں داخل ہونے کے بعد خطبہ:
حضرت سیِّدُنا سائب بن مہجان شامی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ملک شام میں داخل ہوئے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حمد وثنا کی، وعظ ونصیحت کی، اچھی باتوں کا حکم کیا اور بری باتوں سے روکا۔ پھر فرمایا:
٭’’بے شک رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میری طرح خطاب کرنے کھڑے ہوئے تھے ۔‘‘٭’’اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرنے ، صلہ رحمی کرنے اور آپس کے تعلقات کی بہتری کا حکم ارشاد فرمایا۔‘‘٭’’اوریہ بھی ارشاد فرمایا کہ سواد اعظم کی پیروی کو اپنے اوپر لازم کرلو ۔ایک روایت میں ہے کہ اطاعت و فرمانبرداری کو لازم کرلو۔‘‘٭’’کیونکہ اللہ
عَزَّ وَجَلَّ کا دست قدرت جماعت پر ہے۔‘‘٭’’اور بے شک شیطان اکیلے آدمی کے ساتھ ہوتاہے اور دو آدمیوں سے دور رہتاہے۔‘‘٭’’کوئی شخص عورت کے ساتھ خلوت اختیار نہ کرے کیونکہ تیسرا ان میں شیطان ہوگا۔‘‘٭’’اور جس شخص کو اس کی برائی برے لگے اور نیکی اچھی لگے اس بات پرتو یہ اس کے مؤمن ومسلمان ہونے کی نشانی ہے۔‘‘٭’’اورمنافق کی نشانی یہ ہے کہ برائی اسے پریشان نہیں کرتی (یعنی وہ گناہوں پر نادم نہیں ہوتا)اورنیکی اسے خوش نہیں کرتی۔‘‘٭’’اگر بھلائی والا کوئی عمل کر بھی لے تو اسے رب عَزَّ وَجَلَّ کی ذات سے ثواب کی کوئی امید نہیں ہوتی ۔‘‘٭’’اور اگر کوئی برا عمل کرے تو اس برائی کے معاملے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پکڑ سے نہیں ڈرتا۔‘‘٭’’دنیا کی طلب معروف یعنی شرعی طریقے سے کرو کیونکہ تمہیں رزق دینا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذمہ کرم پر ہے۔‘‘٭’’اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر بھروسہ رکھو تمہارے ادھورے کاموں کو وہی مکمل فرمانے والا ہے۔‘‘٭’’اپنے اعمال پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے مدد مانگو کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ جو چاہتاہے مٹاتا ہے اور جو چاہتاہے باقی رکھتاہے، اسی کے پاس ’’اُمّ الْکِتَاب‘‘ ہے۔‘‘ ٭…’’ہمارے نبی ٔکریم، رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت اور درودوسلام ہوں ۔ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ۔(1)
(10)اس نے فلاح پائی جو خواہشات نفس سے بچا:
حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شعب الایما ن للبیھقی ، باب فی الاصلاح بین الناس، ج۷، ص۴۸۸، حدیث:۱۱۰۸۵۔