Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
270 - 831
نفرت پائی جاتی ہے، میں   نفر ت سے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی پناہ مانگتا ہوں  ۔‘‘٭’’تم پر لازم ہے کہ دلوں   میں   پیدا ہونے والے کینے سے بچو، گناہوں   بھری خواہشات اور برے اثرات والی دنیا سے بچو۔‘‘٭’’اور یقینا میں   اس بات سے ڈرتا ہوں   کہ تم لوگ ظالم لوگوں   کی طرف مائل ہو لہٰذا مالداروں   سےمطمئن نہ ہوا کرو۔‘‘٭’’اور قرآن پاک کو مضبوطی سے تھامے رکھنا تم پر لازم ہے، کیونکہ اس میں   نور اور شفاء ہے اور جو شے قرآن کے مخالف ہے اس میں   سراسر بدبختی ہے۔‘‘٭’’اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے تمہارے جن امور کا والی بنایا اس کے متعلق میں   نے فیصلہ کردیا ہے۔‘‘٭’’اور میں   نے تمہاری خیر خواہی کے لیے نصیحت کی، غذا کے انتظام کا حکم دیا، تمہارے لشکر تیار کرکے سامان جنگ مہیا کیا۔‘‘٭’’ان تمام باتوں   کے بعد اب تمہارے لیے اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر کوئی حجت نہیں  ، بلکہ اللہ تعالی کی تم پر حجت ہے، میں   بس تم سے یہی کہنا چاہتا تھا اور میں    اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اپنے لیے اور تم سب کے لیے معافی مانگتا ہوں  ۔‘‘(1)
(7)جو رحم نہیں   کرتااس پر بھی رحم نہیں   کیا جائے گا:
حضرت سیِّدُنا قبیصہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے منبر پر تشریف فرما ہو کر خطبہ دیتے ہوئےارشاد فرمایا: 
٭…’’مَنْ لَا يَرْحَمْ لَا يُرْحَمْ یعنی جو رحم نہیں   کرتا اس پر بھی رحم نہیں   کیا جاتا۔‘‘
٭…’’وَمَنْ لَا يَغْفِرْ لَا يُغْفَرْ لَهُ اور جو معاف نہیں   کرتا اسے بھی معاف نہیں   کیا جاتا۔‘‘
٭…’’وَمَنْ لَا يَتُوْبُ لَا يُتَابُ عَلَيْهِ اور جو رجوع نہیں   کرتا اس کے معاملے میں   بھی رجوع نہیں   کیا جاتا۔‘‘
٭…’’وَمَنْ لَا يَتَّقِ لَا يُوَقَّهُاور جو خود نہیں   بچتا اسے بچایا بھی نہیں   جاتا۔‘‘(2)
(8)قرآن سیکھواور اس کی معرفت حاصل کرو:
حضرت سیِّدُنا باہلی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…کنزالعمال، کتاب المواعظ، خطب عمر ومواعظہ، الجزء:۱۶، ج۸، ص۶۹، حدیث:۴۴۲۰۶۔
2…الادب المفرد، باب ارحم من فی الارض، ص ۱۰۲، حدیث:۳۷۲۔
	کنزالعمال، کتاب المواعظ، خطب عمر ومواعظہ، الجزء:۱۶، ج۸، ص۶۴، حدیث:۴۴۱۷۹۔