(۱) رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذات سے محبت:
سیِّدُنا فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا عقیدہ محبت، رسول اللہ کی ناراضگی کا خوف، رسول اللہ کی اطاعت، بارگاہ رسالت کا ادب واحترام، فضائل فاروق اعظم، آپ کی افضلیت، محدث ہونا، اخروی شان مبارکہ، بارگاہِ رسالت سے عطا کردہ بشارتیں ، سیِّدُنا فاروق اعظم فتنوں کا تالا اور جہنم سے بچانے والے ہیں ، آپ پر ربّ عَزَّ وَجَلَّ کا خصوصی کرم، آپ سے محبت وبغض رکھنے کا صلہ۔
(۲) رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اولاد ودیگر اقرباء سے محبت:
حسنین کریمین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا،مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم ، سیِّدُتنا فاطمۃ الزہراء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا، سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ، بنی ہاشم، ازواج مطہرات و اُمہات المؤمنین سے عقیدت ومحبت۔
(۳) رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اصحاب سے محبت:
سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ودیگر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان وعشاقانِ رسول سے محبت، شانِ فاروق اعظم بزبانِ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان، شانِ فاروق اعظم بزبانِ مولا علی شیر خدا، بزبانِ سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس، بزبانِ سیِّدُتنا عائشہ صدیقہ ، بزبانِ سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن ۔
(۴) رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے منسوبات سے محبت:
سیِّدُنا فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شہر مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ سے الفت ومحبت، رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مساجد سے محبت، مسجد حرام کی توسیع، مسجد نبوی کے تعمیری کام، مساجد کو آباد کرنے کا خصوصی اہتمام، حجر اَسود سے کلام، اِسلام میں نسبت کی بہاروں کا تفصیلی بیان۔
٭…آٹھواں باب، ہجرتِ فاروقِ اعظم:
سیِّدُنا فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاور ہجرت حبشہ، ہجرت مدینہ، ہجرت مدینہ کا انوکھا انداز، ہجرت کا تفصیلی نقشہ، سیِّدُنا فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے رفیق ہجرت ومدنی قافلہ، بعد ہجرت مدینہ منورہ میں رہائش ورشتۂ مواخات، بعد