عذر باقی نہیں رہتا جو گمراہی کو ہدایت سمجھ کر کرے اور تباہ وبرباد ہو جائے۔‘‘٭’’اور اس شخص کے لیے بھی کوئی عذر باقی نہیں رہتا جو ہدایت کو گمراہی سمجھ کرترک کرے ۔‘‘٭’’اور حاکم کا اپنی رعایا کے ساتھ سب سے سچا اور پختہ معاہدہ ان کے دینی معاملات کا معاہدہ ہے جس سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ لوگوں کو ہدایت عطا فرمائے۔‘‘٭’’اور ہم پر ضروری ہے کہ ہم بھی تمہیں صرف انہیں کاموں کا حکم دیں جن کاموں میں رب عَزَّ وَجَلَّ نے تمہیں اپنی اطاعت کرنے کا حکم ارشاد فرمایا۔‘‘٭’’اور ہم پر یہ بھی ضروری ہے کہ ہم تمہیں صرف انہیں کاموں سے روکیں جن کاموں میں رب عَزَّ وَجَلَّ نے تمہیں اپنی نافرمانی کرنے سے منع فرمایا۔‘‘٭’’اور ہم پر لوگوں کی موجودگی یا غیر موجودگی دونوں صورتوں میں یہ بھی ضروری ہے کہ تمہارے معاملے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حکم کو قائم کریں ۔‘‘٭’’جن کی جانب حق مائل ہے ہمیں ان کو وعظ ونصیحت کرنے کی اتنی فکر نہیں ۔‘‘٭’’حالانکہ مجھے بخوبی علم ہے کہ لوگ اپنے دینی معاملات کے بارے میں باتیں بناتے ہوئے یوں کہتے ہیں کہ ہم نماز پڑھتے ہیں ، مجاہدین کے ساتھ جہاد کرتے ہیں اورہم ہجرت بھی کرتے ہیں ۔‘‘٭’’وہ یہ سب کا م تو کرتے ہیں لیکن ان کاموں کو جس طرح کرنے کا حق ہے ویسا نہیں کرتے۔‘‘٭’’ایمان بناؤ سنگھار کا نام نہیں ۔‘‘٭’’گناہگار ہجرت نہ کرنے کے باوجود یہ کہتا ہے: میں نے بھی ہجرت کی تھی، جب کہ گناہ چھوڑنے والے ہی حقیقتاً مہاجرین ہیں ۔٭’’بہت ساری قومیں کہتی ہیں کہ ہم نے جہاد کیا حالانکہ جہاد تو یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں دشمنوں سے لڑا جائے اور حرام سے اجتناب کیا جائے۔‘‘٭’’کئی قومیں فریضہ جہاد بحسن خوبی انجام دیتی ہیں ، لیکن نہ ہی ان کا مطلوب اجروثواب ہوتاہے اور نہ ہی شہرت۔‘‘٭’’جان لو کہ ایسا روزہ حرام ہے جس میں مسلمانوں کو اذیت دی جاتی ہے، مسلمان کو اذیت پہنچانا اسی طرح ممنوع ہے جس طرح بحالت روزہ کھانا پینا اور بیوی سے ہمبستری کرنا ممنوع ہے اور جس روزے میں یہ صفات ہوں وہی کامل روزہ ہے۔‘‘٭’’ جس زکوۃ کو حضور نبی کریم، رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پاکیزگیٔ نفس کے لیے فرض فرمایا تھا اسی کی ادائیگی کو یہ لوگ نیکی نہیں سمجھتے۔‘‘٭’’نصیحت آموز باتیں اچھی طرح سمجھا کرو۔‘‘٭’’اور خوش بخت ہے وہ انسان جسے غیر کے ذریعے نصیحت کی جائے بدبخت تو اپنی ماں کے پیٹ ہی میں بدبخت ہوتاہے۔‘‘٭’’سب سے برے امور خلاف شریعت باتیں ہیں ،سنتوں کے معاملے میں میانہ روی اختیار کرنا بدعت کے معاملے میں کوشش کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔‘‘٭’’بلا شبہ لوگوں میں ان کے حکمرانوں کے متعلق