Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
268 - 831
 تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ہمارے درمیان موجود تھے۔‘‘٭’’یاد رکھو اس وقت وحی کا نزول ہوتاتھا اورہمیں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہارے متعلق سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے ذریعے خبردار فرمادیتا تھا۔‘‘٭’’لیکن خبردار! حضور نبی ٔکریم، رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اب دنیا سے تشریف لے جا چکے ہیں   اور وحی کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے۔‘‘٭’’لہٰذا اب ظاہری معاملات میں   ہم تمہیں   اپنے قول سے پہچانیں   گے ۔‘‘٭’’لہٰذا جس سے کوئی بھلائی کی بات صادر ہوئی تو ہم بھی اسے بھلائی ہی سمجھیں   گے اور بدلے میں   اس سے محبت کریں   گے۔‘‘٭’’اور جس سے کوئی برائی صادر ہوئی توہم بھی اسے برا ہی سمجھیں   گے اور بدلے میں   اسے ناپسند کریں   گے۔‘‘٭’’البتہ تمہارے خفیہ معاملات تمہارے اور رب کے درمیان ہیں  ، ان کا ہم پر کوئی ذمہ نہیں   ۔‘‘٭’’خبردار !ایک عرصے تک تو میں   یہ ہی سمجھتا تھا کہ تلاوت قرآن کرنے والوں   کا مطلوب محض رضائے الٰہی ہے، پھر میری توجہ اس طرف گئی کہ تلاوت قرآن سے کئی لوگ مال ومتاع بھی چاہتے ہیں  ۔پس تم اللہ کے لیے قرآن کی تلاوت کرو اور اللہ ہی کے لیے دیگر اعمال کرو۔‘‘ ٭’’خبردار میں   اپنے عُمّال کو تمہارے پاس تمہاری کھالیں   کھینچنے اور مال بٹورنے کے لیے نہیں   بھیجتا ہوں  ۔‘‘٭’’بلکہ میں   تو اس لیے بھیجتا ہوں   کہ وہ تمہیں   فرائض اور سنتیں   وغیرہ سکھائیں   ۔‘‘٭’’پس جو گورنر یا عامل اس سے ہٹ کر کوئی کام کرے تو اسے میرے پاس لاؤ ، خدا کی قسم! میں   اس سے ضرور بدلہ لوں   گا۔‘‘٭’’خبردار مسلمانوں   کو بے جا سزائیں   دے کر رسوا نہ کرو۔‘‘٭’’اور فوج کو دشمن کی زمین میں   امتحان میں   ڈال کر مت آزماؤ۔‘‘٭’’عوام کے حقوق روک کر انہیں  کفرکی کھائی میں   مت دھکیلو۔‘‘٭’’انہیں   پس پردہ مت ڈالو ورنہ ضائع کردو گے۔‘‘(1)
(6)فاروقِ اعظم کا جابیہ میں   پراثر خطبہ:
حضرت موسیٰ بن عقبہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سےر وایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا جابیہ کے موقع پر ایک نصیحت آموز خطبہ دیا جس کا خلاصہ کچھ یوں   ہے:
٭’’میں   تمہیں   اللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرنے کی وصیت کرتاہوں   کیونکہ ڈر ہی وہ شے ہے جس کے سبب اللہ عزوجل اپنے دوستوں   کوعزت عطا فرماتاہے۔جبکہ نافرمانی کے سبب دشمنوں   کو ذلیل وگمراہ کر دیتاہے۔‘‘٭’’اور اس شخص کے لیے کوئی 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…مسند امام احمد، مسند عمر بن الخطاب، ج۱، ص۹۴، حدیث:۲۸۶ ملتقطا۔