٭’’اور وہ ڈرتے بھی ہیں اور انہیں ڈر عطا بھی کیا جاتاہے۔‘‘٭’’اگر فقط وہی ڈرتے رہیں تو لوگوں سے امن میں نہیں رہ سکتے۔‘‘٭’’جن اشیاء کا مشاہدہ نہیں کیا انہیں بھی یقین سے دیکھتے ہیں ۔‘‘٭’’کیونکہ وہ نہ ختم ہونے والی زندگی یعنی آخرت کو ترجیح دیتے ہیں ۔‘‘٭’’انہیں خوف ہی کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔‘‘٭’’اور یہ لوگ آخرت کے بدلے دنیا کو چھوڑ دیتے ہیں ۔‘‘٭’’حیات ان کے لیے نعمت اور موت ان کے لیے کرامت ہے ۔‘‘٭’’کل بروز قیامت حور عین سے ان کی شادی کرائی جائے گی اور جنتی خدام ان کی خدمت پر مامور ہوں گے۔‘‘(1)
(4)کون سی چیز اِسلام کو منہدم کردیتی ہے؟
حضرت سیِّدُنا زیاد بن حدید رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’يَا زِيَادَ ابْنَ حَدِيْرٍ هَلْ تَدْرِيْ مَا يَهْدِمُ الْاِسْلَامَ؟یعنی اے زیاد بن حدیر! کیا تم جانتے ہو کہ کونسی چیز یں اسلام کو منہدم کردیتی ہیں ؟‘‘ پھر خود ہی ارشاد فرمایا:
٭’’گمراہ امام۔‘‘٭’’منافق کا قرآن کے ساتھ جھگڑا کرنا۔‘‘٭’’وہ قرض جو تمہاری گردنوں کو توڑ ڈالے۔‘‘٭’’اورمجھے تمہارے اوپر اہل علم کی لغزشوں کا خدشہ ہے۔‘‘٭’’بہرحال اگر کسی علم والے کی لغزش درست ہوجائے تو تم لوگ اس لغزش کی پیروی نہ کرو۔‘‘٭’’اور اگر وہ گمراہ ہی رہے تو اس کی ہدایت کے معاملے میں مایوس نہ ہو جاؤ کیونکہ صاحب علم سے لغزش ہوجائے تو وہ توبہ کرلیتا ہے۔‘‘٭’’ اور جس کے دل میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ غنا یعنی لوگوں سے بے پرواہی ڈال دے تو وہ فلاح پاگیا۔‘‘ (2)
(5)جس نے بھلائی کی ہم اس کی بھلائی کا خیال رکھیں گے:
حضرت سیِّدُنا ابو فراس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
٭ ’’اے لوگو! خبردار ہم تمہیں اس وقت سےجانتے ہیں جب خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…حلیۃ الاولیاء، عمر بن الخطاب، ج۱، ص۹۲۔
2…کنزالعمال، کتاب المواعظ، خطب عمر ومواعظہ،الجزء:۱۶، ج۸، ص۶۸، حدیث:۴۴۲۰۳۔
سنن دارمی، باب فی کراھیۃ اخذ الرای، ج۱، ص۸۲، الرقم:۲۱۴۔