انہوں نے لوگوں کو نیچے دیکھا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حمد وثنا بیان کی، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حمد اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ثناء کے بعد جو اُن کا پہلا کلام تھا وہ یہ اَشعار تھے:
هَوِّنْ عَلَيْكَ فَاِنَّ الْاُمُوْرَ، بِكَفِّ الْإلٰهِ مَقَادِيْرَهَا
فَلَيْسَ بِآتِيْكَ مَنْهِيْهًا، وَلَا قَاصِرٍ عَنْكَ مَامُوْرَهَا
ترجمہ: ’’اپنی ذات پر نرمی وآسانی کرو کیونکہ تمام معاملات کی ڈور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے دست قدرت میں ہے۔ منہیات یعنی جن کاموں سے منع کیا گیا ہے ان کی ادائیگی نہ کرواور مامور بہا یعنی جن کاموں کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے ان کے کرنے میں کوتاہی نہ کرو۔‘‘ (1)
(2)خیر کی اتباع کرنے والااسے پالیتاہے:
حضرت سیِّدُنا حسن رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کرتے تھے:’’يَا اَيُّهَا النَّاسُ ! اِنَّهُ مَنْ يَّتَّقِ الشَّرّ يُوْقَهُ، وَمَنْ يَّتَّبِعُ الْخَيْرَ يُؤْتَهُاے لوگو! جو شر سے ڈرتا ہے تو اس سے بچا لیاجاتاہے اور جو شخص بھلائی چاہتا ہے تو اسے عطا کر دی جاتی ہے۔‘‘(2)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واقعی جو شخص برائیوں سے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرتا ہے ، نیکیاں کرنے میں سبقت کرتا ہے تو رب عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت اس کی حامی وناصر ہوتی ہے۔
(3)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نیک بندوں کی صفات:
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن زبیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک بار ارشاد فرمایا:
٭’’بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے کچھ بندے ایسے ہیں جو باطل کو چھوڑ کر اسے مردہ کردیتے ہیں ۔‘‘٭’’اور حق کا بول بالا کرکے اسے زندگی بخشتے ہیں ۔‘‘٭’’وہ بھلائی کے کاموں میں رغبت رکھتے ہیں تو انہیں رعب عطا کردیا جاتاہے۔‘‘
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…کنزالعمال، کتاب المواعظ، خطب عمر ومواعظہ، الجزء:۱۶، ج۸، ص۶۶، حدیث:۴۴۱۸۷۔
2…کنزالعمال، کتاب المواعظ، خطب عمر ومواعظہ، الجزء:۱۶، ج۸، ص۶۸، حدیث:۴۴۲۰۴۔