آواز بہت بلنداور با رعب تھی، نہایت ہی متاثر کن شخصیت کے مالک تھے، قد اتنا لمبا تھا کہ زمین پرکھڑے ہوتے تو ایسا لگتا جیسے منبر پر کھڑے ہیں ۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے خطبات ایسے ہوتے تھے کہ تاثیر کا تیر بن کر لوگوں کے دلوں میں پیوست ہو جاتے ۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے پہلے عموماً فکری، علمی، نظری، وعظ ونصیحت پر مشتمل خطبات دیے جاتے تھے، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ملکی اورجنگی معاملات پر بھی خطبے ارشاد فرمائے، یوں آپ نے خطبات کی اِن اقسام میں ایک اور قسم ’’سیاسی خطبات‘‘ کا اِضافہ فرمایا۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے چند خطبات پیش خدمت ہیں ۔
(1)خلیفہ بننے کے بعد پہلا خطبہ:
حضر ت سیِّدُنا امام شعبی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ خلیفہ بننے کے بعد منبر پر جلوہ افروز ہوئےاور خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:٭’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے اس بات کی ہمت نہ دے کہ میں اپنے آپ کو حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی نشست کا اہل سمجھوں ۔‘‘پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ایک درجہ نیچے تشریف لے آئے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حمد وثنا بیان کی اور ارشاد فرمایا:٭’’قرآن پڑھتے رہو تمہیں اس کی معرفت حاصل ہو جائے گی۔‘‘٭’’اور قرآن پر عمل کرتے رہو اہل قرآن بن جاؤ گے۔‘‘٭’’اور اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہو قبل اس سے کہ تمہارے اعمال کا محاسبہ کیا جائے۔‘‘٭’’اور قیامت کے اس دن کے لیے تیار رہو جس دن تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں پیش کیے جاؤ گے اور تم میں سے کوئی بھی اس پر مخفی نہیں ہوگا۔‘‘٭’’کوئی بھی شخص اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت کرکے حقدار کا حق ادا نہیں کرسکتا۔‘‘٭’’اور غور سے سن لو! میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مال کے معاملے میں اپنے آپ کو یتیم کے ولی کی جگہ رکھتا ہوں ۔‘‘٭’’اگر میں بذات خود مالدار ہوا تو اس مال سے دور رہوں گا اور اگر مالدار نہ ہوا تو جائز طریقے سے اس میں سے کھاؤں گا۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم کے نصیحت آموز اشعار:
حضرت سیِّدُنا ابو خالد غسانی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے روایت ہے کہ مجھے شامی مشایخ نے بیان کیا کہ انہوں نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو دیکھا کہ جب ان کو خلیفہ بنایاگیا تو وہ منبر پر چڑھے ، جب
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المجالسۃ و جواھر العلم،الجزء التاسع،ج۲،ص۴۷،الرقم:۱۲۹۱۔