سات مدنی پھولوں کا فاروقی گلدستہ
حضرت سیِّدُنا محمد بن شہاب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:٭’’بیکار اور فضول کاموں میں مت پڑو۔‘‘٭’’اپنے دشمن سے ہمیشہ دور رہو۔‘‘٭’’امانت دار دوستوں کے سوا اپنے ہردوست سے چوکنے رہو۔‘‘٭’’امانت دار شخص کا کسی کے ساتھ موازنہ نہیں ہوسکتا۔‘‘٭’’گناہ گاروں کی صحبت سے بچو ورنہ تمہیں بھی ان کی گندگی لگ جائے گی۔‘‘٭’’اپنے سربستہ رازوں کو فاش نہ کرو۔‘‘٭’’اپنے معاملے میں ان لوگوں سے مشاورت کرو جو خوف خدا رکھنے والے ہوں ۔‘‘(1)
سچی توبہ کی نشانی:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے سچی توبہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: ’’التَّوْبَةُ النَّصُوحُ اَنْ يَتُوبَ الْعَبْدُ مِنَ الْعَمَلِ السَّيِّئِ ثُمَّ لاَ يَعُوْدُ ااِلَيْهِ اَبَداً یعنی سچی توبہ یہ ہے کہ بندہ برے عمل سے اس طرح توبہ کرے کہ دوبارہ اس کو کبھی بھی نہ کرے۔‘‘(2)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
خطباتِ فاروقِ اعظم
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! زمانہ جاہلیت میں اگرچہ عربوں کے اندر عموماً خصائصِ رذیلہ (برے اوصاف)ہی پائے جاتے تھے، لیکن اس وقت بھی بعض افراد وہ تھے جن میں ایسے بہترین خصائل موجود تھے جو لوگوں کی نظر میں باعث فخر تھے، امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا شمار ایسے ہی چند افراد میں ہوتا تھا۔ تقریر وخطابت کا ملکہ آپ کو رب عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ سے عطا ہوا تھا، نیز آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی فصیح وبلیغ عربی زبان نے سونے پہ سہاگے کا کام کیا، اور اسی خصوصیت کے سبب قریش نے آپ کو عہدۂ سفارت دے دیا تھا۔ ایک خطیب کے اندر خطبے کے حوالے سے جو جو صفات ہونی چاہیے تھیں وہ بدرجہ اتم آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ میں موجود تھیں ، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الادب، ما یومربہ الرجل فی مجلسہ، ج۶، ص۱۱۳، حدیث:۲۔
2…مصف ابن ابی شیبہ، کتاب الزھد، کلام عمر بن الخطاب، ج۸، ص۱۵۴، حدیث: ۵۰۔