تَعَالٰی عَلَیَّ فِیْھَا اَرْبَعُ نِعَمٍیعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم! میں جب بھی کسی مصیبت میں مبتلا ہو تا ہوں اس وقت بھی مجھ پر اللہ
عَزَّ وَجَلَّکی ان چار نعمتوں کا نزول ہو تاہے:٭’’اس مصیبت کے سبب فی الوقت میں گناہ میں مبتلا نہیں ہوتا۔‘‘٭’’اس مصیبت کے وقت مجھ پر اس سے بڑی کوئی مصیبت نازل نہ ہوئی۔‘‘٭’’اس مصیبت کے وقت میں اس پر راضی ہوتا ہوں ۔‘‘٭’’اس مصیبت کے وقت مجھے اس پر ثواب کی امید ہوتی ہے۔‘‘(1)
تم برابر بھلائی پر رہو گے:
حضرت سیِّدُنا ابن معاویہ کندی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے روایت ہے فرماتے ہیں میں ملک شام میں امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھ سے لوگوں کی کیفیت کے متعلق پوچھااور پھر خود ہی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فرمانے لگے: ’’ شاید لوگوں کی یہ کیفیت ہوگی کہ بدکے ہوئے اونٹ کی طرح مسجدمیں آتےہو ں گے اورمسجد میں اپنی قوم یا جان پہچان کے لوگوں کو مجلس میں دیکھ کر ان کے ساتھ بیٹھ جاتے ہوں گے۔‘‘ میں نے عرض کیا:’’نہیں حضور! ایسی کیفیت نہیں ہے، البتہ ان کی مختلف مجلسیں منعقد ہوتی ہیں لوگ بھلائی سیکھتے سکھاتے ہیں ۔‘‘ فرمایا: ’’لَنْ تَزَالُوْا بِخَيْرٍ مَّا كُنْتُمْ كَذٰلِكَیعنی جب تک تمہاری یہ صورت رہے گی تم برابر بھلائی پر رہو گے۔‘‘(2)
تین 3مدنی پھولوں کا فاروقی گلدستہ
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:
٭…’’حُسْنُ التَّوَدُّدِ اِلَی النَّاسِ نِصْفُ الْعَقْلِ یعنی لوگوں سے حسن اخلاق سے پیش آنا نصف عقل ہے۔‘‘
٭…’’حُسْنُ السُّوَالِ نِصْفُ الْعِلْمِ یعنی اچھے طریقے سے سوال کرنا آدھا علم ہے۔‘‘
٭…’’حُسْنُ التَّدْبِیْرِ نِصْفُ الْمَعِیْشَۃِ یعنی اچھی تدبیر اختیار کرنا آدھی معیشت ہے۔‘‘ (3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…فیض القدیر، حرف الھمزۃ، ج۲، ص۱۶۹، تحت الحدیث: ۱۵۰۶۔
2…کنزالعمال، کتاب العلم، باب فی فضلہ والتحریص، الجزء:۱۰، ج۵، ص۱۱۲، حدیث:۲۹۳۴۴۔
3…المنبھات، ص۹۔