لوگوں کے بگڑنےاور سدھرنے کی وجہ:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:’’ قَدْ عَلِمْتَ مَتَى صَلَاحُ النَّاسِ وَمَتَى فَسَادُهُمْیعنی کیا تم جانتے ہوکہ لوگ سدھرتے کیسے ہیں اور بگڑتے کیسے ہیں ؟‘‘ پھر خود ہی ارشاد فرمایا: ’’جب نصیحت کی بات کسی چھوٹے کی طرف سے آتی ہے تو وہ اس پر بگڑ جاتاہے اور جب بڑے کی طرف سے آتی ہے تو چھوٹا اس کو مان لیتا ہے تو دونوں کا معاملہ صحیح رہتاہے۔‘‘(1)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اِس مبارک فرمان میں ایک نہایت ہی خطرناک باطنی مرض ’’تکبر‘‘ کی ایک صورت کا بیان ہے۔کیونکہ اپنے سے چھوٹے کی نصیحت آموز بات کو تسلیم نہ کرنا بھی نفسِ امارہ کی شرارت اور تکبر کی علامت ہے۔ نصیحت کی بات ہر شخص کی قبول کرنی چاہیے، چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا۔ ہمارے بزرگان دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن تو چھوٹے چھوٹے جانوروں اور بچوں سے بھی نصیحت حاصل کر لیا کرتے تھے۔ ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے بارے میں منقول ہے وہ فرماتے ہیں :میں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر توکل کرنا مرغی سے سیکھا کہ ’’وہ ایک وقت کا کھانا کھانے کے بعد باقی جو بچتاہے اسے گرادیتی ہے گویا وہ یہ پیغام دیتی ہے کہ جس رب عزوجل نے مجھے ابھی کھانا کھلایا ہے بعد میں بھی کھلائے گا لہٰذا ذخیرہ کرنے کی ضرورت نہیں ۔‘‘صلح کرنا، بغض وکینہ وحسد ونفرت سے بچنا میں نے بچوں سے سیکھا کہ چھوٹے چھوٹے بچے جب کسی بات پر جھگڑتے ہیں تو تھوڑی ہی دیر بعد ایک دوسرے میں گھل مل جاتے ہیں اور ایسا لگتا ہے ان میں کوئی لڑائی جھگڑا ہوا ہی نہیں ہے۔ وہ بچے گویا یہ پیغام دیتے ہیں کہ آپس کے چھوٹے موٹے اختلاف ختم کرکے صلح کرلو اور دلوں میں بغض وکینہ، حسدونفرت کو جگہ نہ دو۔‘‘ اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں ان بزرگوں کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
چار 4مدنی پھولوں کا فاروقی گلدستہ
مصیبت کے وقت فاروقِ اعظم کی چارنعمتیں :
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ارشاد فرماتے ہیں :’’ مَا ابْتَلَیْتُ بِبَلْیَۃٍ اِلَّا وَکَانَ لِلّٰہِ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…جامع بیان العلم وفضلہ،باب حال العلم اذا۔۔۔الخ،ص۲۲۰،الرقم:۶۷۹۔