Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
256 - 831
آپ بھی دعوتِ اِسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو جائیے اور مدنی اِنعامات پر عمل کرکے اپنی آخرت کو بہتر بنائیے۔
فاروقِ اعظم کی صبر وشکر کی دو سواریاں  :
حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ارشاد فرماتے ہیں  : ’’لَوْ اُوْتِيْتُ بِرَاحِلَتَيْنِ رَاحِلَةَ شُكْرٍ وَرَاحِلَةَ صَبْرٍ لَمْ اُبَالَ اَيَّهُمَا رَكِبْتُ یعنی اگر مجھے دو سواریاں   دے دی جائیں  ، ایک شکر کی سُواری اور ایک صبر کی سُواری تو مجھے کوئی پرواہ نہیں   کہ میں   دونوں   میں   سے کسی پر بھی سُوار ہو جاؤں  ۔‘‘(1)
سُبْحَانَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ! صد ہزار آفریں   سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی مدنی سوچ پر جنہوں   نے خدائے بزرگ وبَر تر کی رضا کے لئے شاہی شان وشوکت، محلات وباغات، غِلمان وخُدّام اور دنیوی زیب وزینت کو ٹھکرا کر سادگی وعاجزی اختیار کی۔ بھوک وپیاس کی مصیبتیں   ہنس کر برداشت کیں   ، کبھی بھی حرفِ شکایت لب پر نہ لائے اورر زقِ حلال کی خاطر محنت مزدوری کی۔یقیناً یہی وہ لوگ ہیں   جنہوں   نے آخرت کی قدر جان لی۔ اُن پر دنیا کی حقیقت آشکار ہوچکی تھی کہ دنیا بے وفاہے اُس کی نعمتیں   زوال پذیر ہیں  ۔اُن عارضی لذتوں   کی خاطر دائمی خوشیوں   کو نظر اَنداز کر دینا عقل مندوں   کا کام نہیں  ۔ سمجھدار لوگ وہی ہیں   جو باقی رہنے والی خوشیوں   کو فانی خوشیوں   پر تر جیح دیتے ہیں   اور دُنیوی مصائب و تکالیف کو صبر و شکر کے ساتھ برداشت کرتے ہیں  ۔   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اِن پاکیزہ ہستیوں   کے صدقے ہمیں   بھی ا عمالِ صالحہ پر استقامت عطا فرمائے۔ ہر حال میں   اپنی رضا پر راضی رہنے کی تو فیق عطا فرمائے ۔ بے صبری وناشکر ی سے بچا کر صبر وشکر کی دولت سے مالا مال فرمائے۔ کامیابی اسی میں   ہے کہ ہر آنے والی مصیبت پر صبر کر کے اجر کا مستحق ہو۔ مصائب وآلام کے ذریعے ہمیں   آزمایا جاتا ہے اور بہادری یہی ہے کہ امتحان وآزمائش آ جائے تو بے صبری کرکے منہ نہ پھیرا جائے بلکہ خوش دِلی سے آزمائشوں   سے مقابلہ کیا جائے ، مصیبت خود نہ مانگی جائے بلکہ عفو و کرم کی بھیک طلب کی جائے۔ اگر مصیبت آجائے تو اس پر صبر کیا جائے۔  اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں   اپنے حفظ وامان میں   رکھے اور ہمارا خاتمہ بالخیر فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ ابن عساکر، ج۱۳، ص۴۷، کنزالعمال، کتاب فضائل الصحابۃ، شکرہ، الجزء:۱۲، ج۶، ص۲۹۰، حدیث: ۳۵۹۷۹۔