جہنم کا ذکر کثرت سے کیا کرو:
حضرت سیِّدُنا حسن رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمایا کرتے تھے:’’اَكْثِرُوا ذِكْرَ النَّارِ ، فَاِنَّ حَرَّهَا شَدِيدٌ ، وَاِنَّ قَعْرَهَا بَعِيدٌ ، وَاِنَّ مَقَامِعَهَا حَدِيدٌ یعنی دوزخ کوزیادہ یاد کیا کرو کیونکہ اس کی گرمی بہت شدید ہے، اور اس کی گہرائی بہت دور تک ہے، اور اس کے گُرز لوہے کے ہیں ۔(1)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دوزخ اور اس کی سختیوں کو یاد کرنے سے فکرِ آخرت کا ذہن ملتا ہے، اور یقیناً سمجھدار تو وہی ہے جو دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی تیار ی میں مشغول رہے کہ عذابِ جہنم سہنے کی کسی میں سکت نہیں ، جہنم کا سب سے ہلکا عذاب آگ کی جوتیاں ہیں ، ذرا غور تو کیجئے !کیا دنیا کی آگ ہم برداشت کرلیتے ہیں ؟ ہرگزنہیں بلکہ اگر غلطی سے جلتی ہوئی موم بتی پر ہاتھ لگ جائے تو جلن سے بِلبِلا اٹھتے ہیں ،جہنم کی آگ کی گرمی دُنیا کی آگ کی گرمی سے اُ نہتر درجے زیادہ ہے، حضورِ اکرم، نُورِ مجسم، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا کہ’’ فرشتوں نے ایک ہزار سال تک جہنم کی آگ کو بھڑکایا تو وہ سرخ ہو گئی، پھر دوبا رہ ایک ہزار برس تک بھڑکائی گئی تو وہ سفید ہو گئی، پھر تیسری بار جب ایک ہزار برس تک بھڑکائی گئی تو وہ کالے رنگ کی ہو گئی تو وہ نہایت ہی خوفناک سیاہ رنگ کی ہے۔‘‘(2)
بھلائی کے کاموں میں آگے بڑھو:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ’’يَا مَعْشَرَ الْقُرَّاءِ! اِرْفَعُوْا رُؤُوْسَكُمْ، مَا اَوْضَحَ الطَّرِيْقُ! فَاسْتَبِقُوْا الْخَيْرَاتِ، وَلَا تَكُوْنُوْا كَلًّا عَلَى الْمُسْلِمِيْنَ یعنی اے قراء کی جماعت! اپنے سروں کو اُوپر اُٹھاؤ اور دیکھو راستہ کس قدر واضح ہے، بھلائی کے کاموں میں آگے بڑھو اور مسلمانوں پر بوجھ مت بنو۔‘‘(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مصنف ابن ابی شیبۃ، کتاب ذکر النار، ما ذکر فیما اعدلا ھل النار، ج۸، ص۹۷، حدیث:۴۰۔
2…ترمذی،کتاب صفۃ جھنم،باب منہ،ج۴، ص۲۶۶، حدیث:۲۶۰۰۔
3…شعب الایمان، باب التوکل والتسلیم، ج۲، ص۸۲، حدیث:۱۲۱۷۔