میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مذکورہ بالا دونوں فرامین ’’صبرو شکر‘‘ کی دو عظیم نعمتوں کی ترغیب سے مالامال ہیں ، یقیناً وہ شخص کامیاب وکامران ہے جو ہر حال میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر کرے، اگر کوئی مصیبت آئے تو اس پر صبر کرکے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا پائے کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے پیارے بندوں کو آزمائش میں مبتلا فرماتاہے تاکہ وہ اس پر صبر کریں اور پھر وہ ان کے درجات کو بلند فرمائے۔ چنانچہ،
محبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانیت صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :’’جب بندے کا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں کوئی مرتبہ مقرر ہو اور وہ اس مرتبے تک کسی عمل سے نہ پہنچ سکے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے جسم، مال يا اولاد کی آزمائش ميں مبتلا فرماتا ہے پھر اسے اُن تکاليف پر صبر کی توفيق عطافرماتاہے يہاں تک کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں اپنے مقرردرجے تک پہنچ جاتا ہے۔‘‘ (1)
حضرت سیِّدُنا عمیر بن واصل رَحمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ’’اِذَا کَانَ الرَّجُلُ مُقْصِراً فِی الْعَمَلِ اُبْتُلِیَ بِالْھَمِّ لِیُکَفَّرَ عَنْہُ یعنی جب کسی شخص سے نیک اعمال کرنے میں کوتاہی ہوتی ہے تو اسے کسی نہ کسی آزمائش میں مبتلا کردیا جاتا ہے تاکہ یہ آزمائش اس کی کوتاہی کا کفارہ ہو جائے۔‘‘(2)
آٹھ 8مدنی پھولوں کا فاروقی گلدستہ
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:
٭…’’مَنْ کَثُرَ ضِحْکُہُ قَلَّتْ ھَیْبَتُہُ یعنی جو زیادہ ہنستا ہے اس کی ہیبت کم ہوجاتی ہے۔‘‘
٭…’’مَنْ کَثُرَمَزَاحُہُ اِسْتَخَفَّ بِالنَّاسِ یعنی جو زیادہ مزاح کرتاہے لوگوں کے نزدیک حقیر ہو جاتا ہے۔‘‘
٭…’’مَنِ اسْتَخَفَّ بِالنَّاسِ اِسْتَخَفَّ بِہٖ یعنی جو لوگوں کے نزدیک حقیر ہو وہ اپنے نزدیک بھی حقیر ہو جاتا ہے۔‘‘
٭…’’مَنْ اَکْثَرَ فِیْ شَیْءٍ عُرِفَ بِہٖ یعنی جو کسی چیز کو کثرت سے کرتاہے تو اس کے سبب مشہور ہو جاتا ہے۔‘‘
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سنن ابی داؤد ،کتاب الجنائز ، باب الامراض المکفرۃ ۔۔۔الخ ، الامراض المکفرۃ لذنوب، ج۳، ص۲۴۶، حدیث:۳۰۹۰۔
2…مناقب امیر المؤمنین عمربن الخطاب، الباب السابع والخمسون، ص۱۷۲۔