حساب بھی اتنا زیادہ ہو گا ، حاکم کل بروزِ قیامت حسرت سےکہے گا :’’ اےکاش!ایامِ حکومت اطاعت الہٰی میں گزارے ہوتے۔‘‘ حدیث مبارکہ میں ہے: ’’حکومت اَمانت ہے اور یہ قیامت کے دن رُسوائی وندامت ہے سوائے اُس شخص کے جو اُسے حق کے ساتھ لے اور وہ ذمہ داریاں پوری کرے جو اُس میں ہیں ۔‘‘ (1)
مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :’’سلطنت وحکومت نفسانی خواہش ،دنیاوی مال عزت کی لالچ سے طلب کرنا حرام ہے کہ ایسے طالبِ جاہ لوگ حاکم بن کر ظلم کرتے ہیں ۔‘‘ (2)
یہ بھی تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ایک نعمت ہے:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو جُذَام کے مرض میں مبتلا ہونے کے ساتھ اندھا، گونگا اور بہرا بھی تھا، جو اس کے ساتھ لوگ تھے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اُن سے پوچھا: ’’هَلْ يَرَوْنَ فِيْ هٰذَا مِنْ نِعَمِ اللہِ شَيْئًا یعنی کیا تمہیں اس کی ذات میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتوں میں سے کوئی نعمت نظر آتی ہے؟‘‘ وہ کہنے لگے کہ نہیں ۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:’’کیوں نہیں ہے!کیا تم لوگ دیکھتے نہیں ہو کہ یہ جب پیشاب کرتا ہے تو بغیر کسی تکلیف کے آسانی کے ساتھ کرتا ہے، یہ بھی تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہی ہے۔‘‘ (3)
چھوٹی سی ناپسندیدہ بات بھی آزمائشہے:
حضرت سیِّدُنا سعید بن مسیب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ گیا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھا۔ لوگوں نے عرض کیا: ’’آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے جوتے کے تسمے ٹوٹنے پر بھی اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھتے ہیں ؟‘‘ فرمایا: ’’اِنَّ كُلَّ شَيْءٍ اَصَابَ الْمُؤْمِنَ يَكْرَهُهُ فَهُوَ مُصِيْبَةٌ یعنی مؤمن کو پہنچنے والی ہر وہ چھوٹی سی چھوٹی بات جسے وہ ناپسند کرتا ہے اس کے لیے آزمائش ہی ہے۔‘‘(4)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… مسلم، کتاب الامارۃ، کراھۃ الامارۃ بغیر ضرورۃ، ص۱۰۱۵، حدیث:۱۶ ملتقطا۔
2…مرآۃ المناجیح، ج۵، ص۳۴۸۔
3…کنزالعمال، کتاب الاخلاق، الصبر علی البلایامطلقا، الجزء:۳، ج۲، ص۳۰۱ ، حدیث:۸۶۵۰۔
4…مصنف ابن ابی شیبۃ، کتاب الادب، فی الرجل ینقطع۔۔۔الخ، ج۶، ص۲۵۹، حدیث:۳۔