Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
250 - 831
قرآن پاک حفظ کرنے کا طریقہ :
حضرت سیِّدُنا ابوالعالیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کہتے ہیں   کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمایاکرتے تھے: ’’ قرآن کریم کی پانچ پانچ آیات یاد کیا کرو کیونکہ جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام پانچ پانچ آیات لے کرہی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے پاس حاضر ہوتے تھے۔‘‘(1)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی یہ ایک مدنی سوچ تھی کہ قرآن پاک جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام جیسا لے کر نازل ہوئے اسی طرح یاد کیا جائے، ورنہ قرآن پاک یاد کرنے میں   آیات کو مخصوص کرنا کوئی فرض واجب نہیں  ،پانچ آیتوں   سے کم یا زیادہ بھی حفظ کی جاسکتی ہیں   ۔کیونکہ یہ طالب العلم پر بھی ہوتاہے کہ بعض طلباء کم سبق یاد کرتے ہیں   تو کئی طلبہ زیادہ سبق یاد کرنے کی بھی اضافی صلاحیت رکھتے ہیں  ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ تبلیغِ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوت اسلامی کی مجلس مدرسۃ المدینہ کے تحت چلنے والے سینکڑوں   مدارس میں   ہزاروں   طلباء وطالبات حفظ وناظرہ قرآن پاک کی تعلیم حاصل کررہے ہیں   اور ان میں   کئی ایسے طلباء بھی ہوتے ہیں   جو روزانہ ایک صفحے سے بھی زائد سبق یاد کرکے سنانے کی ترکیب بناتے ہیں  ۔ 
حکومت حاصل کرنے کی حرص:
حضرت سیِّدُنا عاصم بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:’’مَنْ يَحْرِصُ عَلَى الْاَمَارَةِ لَمْ يَعْدِلْ فِيْهَایعنی جو شخص حکومت حاصل کرنے کی حرص رکھتا ہے وہ کبھی بھی اس میں   عدل نہیں   کرسکتا۔‘‘ (2)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اِس مبارک فرمان میں   اقتدار کی خواہش رکھنے والے لوگوں   کے لیے عبرت ہی عبرت ہے کہ اِقتدار حاصل کرنے والا بہت برے طریقے سے پھنس جاتاہے کہ کل بروز قیامت اس سے رعایا کے بارے میں   سختی سے پوچھ گچھ کی جائے گی، جس کی حکومت جتنی وسیع ہو گی اس کا 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شعب الایمان  ،باب  فی تعظیم القرآن ،فصل فی تعلیم القرآن، ج۲، ص۳۳۱، حدیث:۱۹۵۸۔
2…سیر اعلام النبلاء،الطبقۃ الثالثۃعشر،محمد بن  ابی الحواری،ج۱۰، ص۸۹، الرقم: ۱۹۹۱۔