Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
248 - 831
خشوع گردنوں   میں   نہیں   دل میں   ہوتاہے:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے ایک شخص کو اپنی گردن جھکائے پایا تو اس سے ارشاد فرمایا: ’’يَا صَاحِبَ الرَّقَبَةِ اِرْفَعْ رَقَبَتَكَ لَيْسَ الْخُشُوعُ فِي الرِّقَابِ وَاِنَّمَا الْخُشُوعُ فِي الْقَلْبِ یعنی اے گردن نیچی رکھنے والے! اپنی گردن بلند کر کیونکہ خشوع گردنوں   میں   نہیں   دل میں   ہوتا ہے۔‘‘()
 کہیں   پھول کر آسمان تک نہ پہنچ جاؤ:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے ایک شخص نے نمازِ فجر سے فراغت کے بعد لوگوں   کو نصیحت کرنے کی اجازت چاہی تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے اس کو منع فرما دیا، تو اس نے عرض کی: ’’تَمْنَعُنِي مِنْ نُصْحِ النَّاسِ؟یعنی کیا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  مجھے لوگوں   کو وعظ کرنے سے روک رہے ہیں  ؟‘‘تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا :’’اَخْشَى اَنْ نَنْتَفِخَ حَتَّى تَبْلُغَ الثُّرَيَّایعنی مجھے خوف ہے کہ کہیں   تم پھول کر ستاروں  تک نہ پہنچ جاؤ۔‘‘ (2)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واقعی خشوع وخضوع ظاہری رکھ رکھاؤ کا نام نہیں   کہ ظاہر میں   تو بڑا متقی پرہیزگار بنا رہے اور باطن ہمیشہ میلا رہے، امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مذکورہ بالا فرامین ریاکاری پر ایک کاری ضرب ہیں  ۔افسوس !آج کل ہم اوّل تو عبادت کرتے ہی نہیں   اور اگر ٹوٹی پھوٹی عبادت کر بھی لیں   تو ناز وفخر کرتے پھولے نہیں   سماتے اور اپنے نیک اَعمال مثلا نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ مساجد کی خدمت خلقِ خدا کی مدد اور سماجی فلاح وبہبود کے کاموں   کو اپنے خیال میں   ’’کارنامہ ‘‘تصور کرتے ہوئے ہر جگہ چہکتے اعلان کرتے پھرتے ڈھنڈورا پیٹتے نہیں   تھکتے ۔آہ! اُن کا ذہن کس طرح بنایا جائے اُن کو تعمیری اور اَخلاقی سوچ کس طرح فراہم کی جائے اُنہیں   کس طرح باور کرایا جائے کہ اے میرے نادان اسلامی بھائیو! اس طرح بلاضرورتِ شرعی اپنی نیکیوں   کا اِعلان ریا کاری ہے اور رِیا کاری سراسر تباہ کاری ہے ایسا کرنے سے نہ صرف اَعمال برباد ہوتے ہیں   بلکہ ریاکاری کا گناہ نامۂ اَعمال میں   درج کر دیا جاتا ہے۔جبکہ اس کے برعکس تواضع، عاجزی واِنکساری میں   عزت وعظمت ہے، بلکہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…الزواجر ،الکبیرۃ الثانیۃ،  الشرک الاصغر، ج۱، ص۸۶۔
2…الزواجر ، الکبیرۃ الثانیۃ،  الشرک الاصغر، ج۱، ص۹۶۔