گھر میں طلاق، خلع اور مار پٹائی کی نوبت تک آجاتی ہے۔‘‘٭’’وَلَھَان وہ شیطان ہیں جو وضوء کرنے والوں اور نماز پڑھنے والوں اور دیگر عبادات کرنے والوں کے دلوں میں وسوسے پیدا کرتےہیں ۔‘‘(1)
ہمارے لیے لمحہ فکریہ ۔۔۔!
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگر کسی فوج کا سپہ سالار دو سپاہیوں کو جنگ پر بھیجے اس طرح کہ ایک کو اس کے دشمن کا نام، پتہ ، پہچان اور دیگر تمام معالات سے مطلع کردے جبکہ دوسرے کو فقط یہ کہے کہ تم نے اپنے دشمن سے فقط جنگ لڑنی ہے البتہ وہ دشمن ہے کون؟ یہ نہیں بتاؤں گا تو یقیناً دوسرے کے مقابلے میں پہلے سپاہی کے لیے جنگ لڑنا نہایت ہی آسان ہوگا کہ اسے اپنے دشمن کی مکمل معلومات حاصل ہیں ۔قرآن پاک میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے پارہ۱۲، سورہ یوسف، آیت نمبر ۵ میں واضح طور پر ارشاد فرمادیا کہ’’ شیطان انسان کا کھلم کھلا دشمن ہے۔‘‘سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مذکورہ بالا فرمان میں بھی شیطان کی اولاد اور اس کے فتنوں کے بارے میں کافی تفصیل موجود ہے، اگر ہم اپنے اس حقیقی دشمن کو جاننے کے باوجود اس کے خلاف جنگ نہ کرسکیں تو واقعی یہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے۔۔۔!
اگر آپ چاہتے ہیں کہ اپنے حقیقی دشمن یعنی نفس وشیطان کے خلاف بہتر اَنداز میں جنگ کرسکیں تو اِس کا ایک ذریعہ دعوتِ اِسلامی کا مدنی ماحول بھی ہے، آپ دعوتِ اِسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوجائیے، اپنے اپنے شہروں میں ہونے والے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وارسنتو ں بھرے اجتماع میں پابندیٔ وقت کے ساتھ شرکت فرما کر خوب خوب سنتوں کی بہاریں لُوٹیے۔ سنتوں کی تربیت کے بے شمار مدنی قافلے شہر بہ شہر،گاؤں بہ گاؤں سفر کرتے رہتے ہیں ،آپ بھی سنتوں بھرا سفر اختیار فرما کراپنی آخرت کے لئے نیکیوں کا ذخیرہ اکٹھا کریں ۔ اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ آپ اپنی زندگی میں حیرت انگیز طور پر مدنی انقلاب برپا ہوتا دیکھیں گے۔
اللہ کرم ایسا کرے تجھ پہ جہاں میں
اے دعوتِ اسلامی تیری دھوم مچی ہو
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1۔۔۔۔ المنبھات ، ص۹۴۔